نیویارک:امریکا کے شہر نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے تعلیمی نظام اور بچوں کی ذہنی نشوونما کو بچانے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سخت قدم اٹھاتے ہوئے شہر کے سرکاری سکولوں میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور چیٹ بوٹس کے استعمال پر عارضی پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
جنریٹو اے آئی (جیسے کہ چیٹ جی پی ٹی) ایسے جدید الگورتھمز پر مبنی ٹولز ہیں جو صارف کی جانب سے دیے گئے اشاروں پر سیکنڈوں میں مواد تیار کر سکتے ہیں۔ میئر زوہران ممدانی کی جانب سے اعلان کردہ اس نئی پالیسی کے تحت اگلے تعلیمی سیشن میں پرائمری اور مڈل سکولوں کے طلبہ، یعنی 14 سال تک کی عمر کے بچوں کو سکولوں میں اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جس سے براہِ راست تقریباً 6 لاکھ طلبہ متاثر ہوں گے۔
اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے میئر ظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ بچوں کو مؤثر طریقے سے سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لیے الگورتھمز کے بجائے اپنے اساتذہ اور انسانی تعلق کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر عملی مہارتیں پیدا کرنے، اساتذہ کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے اور تعلیمی مشکلات کا خود سامنا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی فطری صلاحیتیں سست نہ ہوں۔
نئی پالیسی کے اہم خدوخال کے مطابق تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اسکرین ٹائم سے متعلق سخت ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں:
پرائمری طلبہ: تیسری سے پانچویں جماعت کے طلبہ کا سکول میں روزانہ کا اسکرین ٹائم زیادہ سے زیادہ 30 منٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔
مڈل سکول: چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے اسکرین ٹائم کی حد 45 منٹ مقرر کی گئی ہے۔
کمپینین چیٹ بوٹس: ہائی سکول سمیت تمام جماعتوں کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے کمپینین چیٹ بوٹس کے استعمال پر مکمل پابندی ہو گی۔
تاہم، بڑے بچوں یعنی ہائی سکول کے طلبہ کے لیے مکمل پابندی کے بجائے یہ رکھا گیا ہے کہ انہیں سال میں دو بار اے آئی کے بارے میں باضابطہ تعلیم دی جائے گی، جبکہ پورے سال اس تعلیمی پروگرام کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ میئر ممدانی نے واضح کیا ہے کہ یہ پالیسی حتمی نہیں ہے بلکہ حکام پورے سال اس کے اثرات کی قریب سے نگرانی کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ اقدام بچوں کی تعلیم کے لیے کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

