تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
سرکاری دفاتر کا تصور عموماً فائلوں، دفتری امور، اجلاسوں اور سرکاری مصروفیات سے وابستہ ہوتا ہے، لیکن اگر کسی دفتر میں دن کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور دینی و اخلاقی اقدار کی یاد دہانی سے ہو تو وہ ماحول یقیناً اپنے اندر ایک منفرد روحانی کیفیت سمو لیتا ہے۔
ضلع لیہ کے سی ای او ایجوکیشن نامور ماہرتعلیم ڈاکٹر محمد قیوم خان کے دفتر میں روزانہ کی بنیاد پر مارننگ اسمبلی کے ساتھ دفتری امور کا آغاز ایک ایسی ہی خوبصورت اور قابلِ تحسین روایت بن چکا ہے۔ اس بابرکت نشست میں افسران اور دیگر دفتری عملہ شریک ہوتا ہے اور تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد باقاعدہ دفتری کارروائی شروع کی جاتی ہے۔
حال ہی میں ڈاکٹر محمد قیوم خان نے خود بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں خوبصورت نعتیہ کلام "میں لجپالاں دے لڑ لگیاں، میرے توں غم پرے رہندے” پیش کیا۔ ان کی آواز میں عقیدت و محبت کی یہ نعت نہ صرف محفل کو روحانی کیفیت سے ہمکنار کر گئی بلکہ دفتر میں موجود افسران اور عملے کے دلوں میں بھی محبتِ رسول ﷺ اور دینی وابستگی کے جذبات کو تازہ کر گئی۔
یہ روایت محض ایک رسمی سرگرمی نہیں بلکہ اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ دفتری ماحول میں بھی اخلاق، کردار، نظم و ضبط، مثبت سوچ اور روحانی تربیت کو اہمیت دی جا سکتی ہے۔ جب ایک دن کا آغاز پاکیزہ کلمات اور ذکرِ رسول ﷺ سے ہو تو انسان کے خیالات، رویے اور ذمہ داریوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تعلیمی اداروں سے وابستہ افسران کی ذمہ داری صرف انتظامی امور تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ نئی نسل کی فکری اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے تعلیمی شعبے کے ایک ذمہ دار افسر کے دفتر میں ایسی مثبت اور بامقصد روایت کا فروغ یقیناً ایک خوش آئند امر ہے۔
ڈاکٹر محمد قیوم خان کا یہ معمول اس خوبصورت پیغام کا عکاس ہے کہ کامیاب دفتری زندگی صرف فائلوں کی تکمیل اور سرکاری فرائض کی ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ انسان کی اخلاقی، روحانی اور کردار سازی بھی ضروری ہے۔
آج کے مصروف اور تیز رفتار دور میں جب ذہنی دباؤ، بے چینی اور منفی سوچ معاشرے کو متاثر کر رہی ہے، ایسے میں روزانہ چند لمحے قرآنِ پاک کی تلاوت اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے لیے مختص کرنا دلوں کو سکون اور سوچ کو مثبت سمت فراہم کر سکتا ہے۔
بلاشبہ "میں لجپالاں دے لڑ لگیاں، میرے توں غم پرے رہندے” جیسے خوبصورت کلام کی گونج میں شروع ہونے والی صبح صرف ایک دفتر کی صبح نہیں، بلکہ محبت، عقیدت، اخلاق اور خدمتِ خلق کے ایک خوبصورت عزم کی ترجمان بن جاتی ہے۔
ایسی بابرکت روایات سرکاری دفاتر کے ماحول کو نہ صرف خوشگوار بناتی ہیں بلکہ افسران اور عملے کو اپنے فرائض زیادہ اخلاص، ذمہ داری اور مثبت جذبے کے ساتھ ادا کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔


