پشاور انورزیب خان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت محکمہ توانائی و برقیات کے جاری منصوبوں اور اہم امور سے متعلق اجلاس!
جس میں صوبے کے توانائی وسائل، بجلی کی پیداوار، این ایچ پی بقایاجات، قدرتی گیس، ایل پی جی اور صوبائی ٹرانسمیشن و گرڈ نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
خیبرپختونخوا کی ہائیڈل بجلی، تیل، گیس اور ایل پی جی کے وسائل ملکی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا ملک کی مجموعی ہائیڈل بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد نیشنل گرڈ کو فراہم کر رہا ہے، تاہم صوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے باعث صوبہ اپنی پیدا کردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پر مجبور ہے۔
ایک طرف خیبرپختونخوا ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اے جی این کازی فارمولے کے تحت وفاق کے ذمے این ایچ پی کے بقایاجات 2300 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ پہلے عبوری انتظام کے تحت باقاعدہ این ایچ پی کی مد میں بھی وفاق کے ذمے 78 ارب روپے سے زائد کے بقایاجات ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کی 70 فیصد سے زائد ہائیڈل بجلی پیدا کرنے کے باوجود این ایچ پی کی مد میں پنجاب کو خیبرپختونخوا سے زیادہ رقوم مل رہی ہیں۔


