تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
محبت، شفقت اور وفاداری ایسی خوبصورت زبانیں ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انسان اور جانور کے درمیان قائم ہونے والا خلوص کا رشتہ بھی اسی خاموش زبان کی ایک دلکش مثال ہے۔ ضلع خوشاب کے گاؤں آدھی سرگل کے معروف زمیندار ملک خضر عثمانی بوڑانہ کی ایک خوبصورت تصویر ان دنوں سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس میں انسان اور بے زبان مخلوق کے درمیان محبت اور اپنائیت کا حسین منظر نمایاں ہے۔
تصویر میں ملک خضر عثمانی بوڑانہ اپنے کھیت میں ایک چارپائی پر اطمینان سے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ان کا پالتو جانور انتہائی مانوس انداز میں ان کے عین پیچھے کھڑا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا منظر ہے، مگر غور کیا جائے تو اس میں محبت، اعتماد، اپنائیت اور وفاداری کی ایک مکمل داستان چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ جانور کا اپنے مالک کے اتنے قریب کھڑا ہونا اس باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو وقت، توجہ اور شفقت سے پروان چڑھتا ہے۔
ملک خضر عثمانی بوڑانہ کے مطابق جانور محض مال و مویشی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بے زبان مخلوق اور انسان کے وفادار ساتھی ہیں۔ انہیں بھی محبت، توجہ اور شفقت کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس محبت کا جواب اپنی وفاداری اور مانوسیت سے دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی معاشرے میں انسان اور جانور کا تعلق محض ضرورت یا روزگار تک محدود نہیں رہتا بلکہ رفتہ رفتہ ایک جذباتی رشتے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
دیہی زندگی کی خوبصورتی بھی شاید اسی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ کھیت، مٹی، چارپائی، مویشی اور انسان—یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں مصنوعی پن کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ زمیندار کے لیے اس کے جانور صرف معاشی اثاثہ نہیں ہوتے بلکہ اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے چارہ ڈالتا، ان کی دیکھ بھال کرتا اور ان کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ یہی مسلسل قربت جانور اور انسان کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم کر دیتی ہے جو خاموش ہونے کے باوجود انتہائی مضبوط ہوتا ہے۔
ملک خضر عثمانی بوڑانہ کی یہ تصویر ہمیں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے کہ محبت صرف انسانوں کے درمیان بانٹنے کی چیز نہیں۔ جو شخص بے زبان مخلوق کے ساتھ رحم، شفقت اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ دراصل فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ جانور الفاظ میں شکریہ ادا نہیں کر سکتے، مگر ان کی آنکھوں، رویے اور وفاداری میں محبت کا جواب صاف دکھائی دیتا ہے۔
آج کے مصروف اور تیز رفتار دور میں جب انسان فطرت سے دور ہوتا جا رہا ہے، آدھی سرگل کے اس زمیندار اور اس کے وفادار جانور کی تصویر ہمیں سادگی، رحم اور خلوص کی طرف واپس آنے کا خاموش پیغام دیتی ہے۔ یہ تصویر صرف ایک شخص اور اس کے پالتو جانور کا منظر نہیں بلکہ انسان اور فطرت کے درمیان اس خوبصورت رشتے کی ترجمان ہے جس کی بنیاد محبت، اعتماد اور وفاداری پر قائم ہے۔
بلاشبہ، محبت کی زبان الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی؛ اسے انسان بھی سمجھتا ہے اور بے زبان مخلوق بھی۔


