تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
قدرت نے ضلع دیر بالا کو بے شمار حسین وادیوں، سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، شفاف ندی نالوں اور دلفریب مناظر سے نوازا ہے۔ انہی خوبصورت اور نسبتاً کم معروف علاقوں میں نہاگدرہ بھی ایک ایسا منفرد مقام ہے جو قدرتی حسن، تاریخی اہمیت اور مقامی روایات کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔
نہاگدرہ تحصیل واڑی کے شمال مشرق میں واقع ایک تاریخی اور خوبصورت علاقہ ہے، جو مختلف بڑے دیہاتوں پر مشتمل ہے۔ ڈوگرام، کوٹ، ملاگجر، رامبیال، گوگیال، جاگام، کوہن، کنڈرو، کرپاٹ، صندل اور دیگر آبادیاں اس علاقے کی خوبصورتی اور وسعت میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہ علاقہ معروف قوم پائندہ خیل کا مسکن بھی سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہاں کے باشندے اپنی منفرد روایات، سادہ طرزِ زندگی اور مہمان نوازی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔
تاریخی اعتبار سے بھی نہاگدرہ کی اپنی ایک شناخت ہے۔ انضمام سے قبل کے دور میں یہاں نواب کی نسبت بھی بیان کی جاتی ہے، جس کے باعث اس خطے کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس علاقے کی تاریخ، روایات اور قدیم طرزِ زندگی کو محفوظ انداز میں قلم بند کیا جائے تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوسکتا ہے۔
نہاگدرہ کا اصل حسن اس کی فطری ساخت میں پوشیدہ ہے۔ چاروں طرف بہتی ندیاں اور نالے، چھوٹے بڑے کلیان، قدرتی ڈھلوانیں، چیڑ اور دیار کے گھنے جنگلات، سرسبز پہاڑی ڈھلوانیں اور معتدل آب و ہوا اسے ایک بہترین سیاحتی مقام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر انسان شہری زندگی کے شور سے دور قدرت کے قریب محسوس کرتا ہے۔
خصوصاً موسمِ گرما میں جب میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے، نہاگدرہ کا معتدل موسم اور ٹھنڈی ہوائیں سیاحوں کے لیے قدرتی کشش کا باعث بن سکتی ہیں۔ اگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ مقام مقامی اور بیرونی سیاحوں کے لیے ایک بہترین وزٹ سپاٹ بن سکتا ہے۔
مگر افسوس کہ اتنے خوبصورت اور تاریخی علاقے کو آج بھی بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ علاقے میں معیاری تعلیمی اداروں اور مدارس کی کمی، طبی سہولیات کا فقدان اور سیاحوں کے قیام کے لیے مناسب ریسٹ ہاؤسز کی عدم موجودگی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بہتری بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت اور متعلقہ ادارے اگر نہاگدرہ کی سیاحتی صلاحیت کو سنجیدگی سے لیں، سڑکوں کی حالت بہتر بنائیں، بنیادی طبی مرکز قائم کریں، تعلیمی سہولیات میں اضافہ کریں اور سیاحوں کے لیے مناسب ریسٹ ہاؤسز اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کریں تو یہ علاقہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے بلکہ تحصیل واڑی کے سیاحتی نقشے پر بھی نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے۔
نہاگدرہ صرف پہاڑوں، جنگلات اور ندی نالوں کا نام نہیں؛ یہ تاریخ، ثقافت، مہمان نوازی اور قدرتی حسن کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس چھپے ہوئے حسن کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
قدرت نے نہاگدرہ کو حسن عطا کیا ہے، اب باری ہماری ہے کہ اس حسن کی حفاظت، تشہیر اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔





