فلوریڈا سے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی سے لانچنگ؛
طاقتور ترین دوربین اکیلے ایک ماہ میں پوری ملکی وے کہکشاں کا سروے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،
کیپ کینیورل / واشنگٹن:امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) اور اسپیس ایکس نے مل کر خلائی تاریخ کا ایک اور حیرت انگیز کارنامہ انجام دیتے ہوئے 4 ارب ڈالر مالیت کے سابق جاسوس سیٹلائٹ کو خلا میں روانہ کر دیا ہے۔ اسپیس ایکس کے طاقتور ترین "فالکن ہیوی” راکٹ کے ذریعے فلوریڈا سے لانچ کیا جانے والا یہ خلائی جہاز اب زمین سے دس لاکھ میل دور اپنے حتمی مقام کی جانب سفر کر رہا ہے، جہاں پہنچ کر یہ کائنات کے سب سے بڑے رازوں سے پردہ اٹھائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سیٹلائٹ اصل میں امریکی انٹیلی جنس کے لیے ایک جاسوس سیٹلائٹ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ زمین کی انتہائی تفصیلی تصاویر حاصل کی جا سکیں، جن میں اہم فوجی تنصیبات بھی شامل تھیں۔ تاہم، پروگرام بند ہونے کی وجہ سے یہ کبھی استعمال نہ ہو سکا، جسے بعد میں ناسا نے حاصل کر کے ایک جدید ترین فلکیاتی دوربین یعنی "نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی سکوپ” (Nancy Grace Roman Space Telescope) میں تبدیل کر دیا۔
مقررہ مدار میں پہنچنے کے بعد یہ ٹیلی سکوپ بنیادی طور پر ڈارک میٹر، ڈارک انرجی (تاریک توانائی) اور ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود نئے سیاروں کی تلاش کا کام سرانجام دے گی۔ ناسا کے مطابق یہ دوربین انتہائی تیز رفتار ہے اور اتنی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ پوری ملکی وے کہکشاں کا تفصیلی سروے محض ایک ماہ کے اندر مکمل کر سکتی ہے، جبکہ ہبل (Hubble) جیسی روایتی دوربین کو اس کے لیے لگ بھگ ایک صدی درکار ہوتی۔

