تحریر: راجہ نورالہی عاطف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کسی بھی معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا تعارف ان کے عہدے، منصب یا شہرت سے نہیں بلکہ ان کی دیانت، کردار، قابلیت اور عوامی خدمت سے ہوتا ہے۔ جناب جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک بھی ایسی ہی ایک باوقار اور ممتاز شخصیت ہیں جنہوں نے شعبۂ قانون و انصاف میں اپنی صلاحیتوں، اصول پسندی اور فرض شناسی کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک کا تعلق ضلع خوشاب کی تحصیل نورپور تھل کی معروف اور معزز گجر زمیندار برادری سے ہے۔ وہ اس خطے کے ان قابلِ فخر سپوتوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ضلع خوشاب کا نام روشن کیا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن خوشاب میں ایک ممتاز قانون دان کی حیثیت سے انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا اور اپنی قانونی بصیرت، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث جلد ہی ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔
قانون کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد جناب کاظم علی ملک نے عدلیہ کا سفر اختیار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں فرائض سرانجام دیے۔ ان کے عدالتی کیریئر کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ انہوں نے قانون کی بالادستی، میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ ان کی اصول پسندی اور فرض شناسی نے انہیں عدالتی حلقوں میں ایک باوقار اور قابلِ اعتماد جج کے طور پر ممتاز کیا۔
جسٹس کاظم علی ملک نے عدلیہ میں اپنے دورِ خدمت کے دوران متعدد اہم اور تاریخ ساز فیصلے کیے۔ ان کی قانونی قابلیت، معاملہ فہمی اور انصاف پسندی کو دیکھتے ہوئے انہیں ترقی دے کر لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج کے منصب پر فائز کیا گیا۔ یہ اعزاز نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر تھا بلکہ ضلع خوشاب اور خصوصاً نورپور تھل کے لیے بھی باعثِ فخر تھا۔
ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ریاست اور عوام کے لیے ان کی خدمات کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ حکومت پنجاب نے ان کی اعلیٰ قابلیت، دیانت داری اور فرض شناسی کے پیش نظر انہیں ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کی ذمہ داری سونپی۔ اس اہم منصب پر انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے اور قانون کی عمل داری کے لیے نمایاں اقدامات کیے۔ ان کی شخصیت اس بات کی علامت بن گئی کہ اگر کسی ادارے کی قیادت دیانت دار، باصلاحیت اور بااصول فرد کے ہاتھ میں ہو تو مشکل ترین ذمہ داریوں کو بھی احسن انداز میں نبھایا جا سکتا ہے۔
جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک نے لاہور ہائی کورٹ میں سینیئر ممبر انسپکشن ٹیم کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اس منصب پر انہوں نے عدالتی نظام کی بہتری اور ادارہ جاتی امور کی نگرانی میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
بعد ازاں حکومت پنجاب کی جانب سے انہیں الیکشن ٹریبیونل لاہور میں بھی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ انہوں نے تاریخی فیصلے کئے ، یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہر منصب کو محض عہدہ نہیں بلکہ ذمہ داری اور امانت سمجھ کر نبھایا۔
جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت پہلو ان کا وسیع حلقۂ احباب اور ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کے ساتھ محبت و احترام کا تعلق ہے۔ وہ اپنے عہدے اور منصب کے باوجود ایک ملنسار، خوش اخلاق اور انسان دوست شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضلع خوشاب کے عوامی، سماجی، قانونی اور صحافتی حلقوں میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آج بھی جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک عملی زندگی سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوئے بلکہ لاہور ہائی کورٹ میں بطور سینیئر ایڈووکیٹ اپنی قانونی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا طویل تجربہ، وسیع قانونی مطالعہ اور عدالتی امور پر گہری گرفت آج بھی نئی نسل کے قانون دانوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
جسٹس کاظم علی ملک کی کامیابی کا سفر دراصل اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ محنت، دیانت، قابلیت اور اصول پسندی کو زندگی کا شعار بنا لیا جائے تو انسان بڑے سے بڑے منصب تک پہنچنے کے باوجود اپنی شناخت اور وقار برقرار رکھ سکتا ہے۔
ان کی پوری فیملی بھی علاقے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ ان کے صاحبزادے، سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب اور ہر دلعزیز نوجوان قانون دان ملک امجد رضا گجر بھی طویل عرصے سے عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں۔ باپ اور بیٹے کی قانونی و سماجی خدمات اس خاندان کی عوام سے وابستگی اور خدمت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔
یقیناً ضلع خوشاب کے لیے یہ امر باعثِ افتخار ہے کہ اس سرزمین نے جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک جیسی باصلاحیت، بااصول اور ممتاز شخصیت کو جنم دیا، جنہوں نے بار سے بنچ، بنچ سے اینٹی کرپشن، انسپکشن ٹیم اور الیکشن ٹریبیونل تک اپنی صلاحیتوں کے ایسے نقوش چھوڑے جو مدتوں یاد رکھے جائیں گے۔
جسٹس ریٹائرڈ کاظم علی ملک محض ایک نام نہیں، بلکہ قانون کی پاسداری، انصاف کی سربلندی، دیانت داری اور فرض شناسی کی ایک روشن مثال ہیں۔ ان کی زندگی ان نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو قانون کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے اپنے کردار اور قابلیت کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا عزم رکھتے ہیں۔


