اسلام آباد:پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو عدالت عظمیٰ کے حکم پر طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال منتقل کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی جمعہ کی صبح دوبارہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے سابق وزیراعظم کا تفصیلی طبی معائنہ کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا، جس کے بعد تمام ضروری قانونی کارروائی مکمل کر کے انہیں واپس جیل پہنچا دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو معائنے کے بعد اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026 کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ ان کی ہمشیرہ…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) August 21, 2026
73 سالہ عمران خان اگست 2023ء سے مختلف مقدمات میں قید کاٹ رہے ہیں۔ ان کے وکلا اور پارٹی رہنما مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ جیل میں قید کے دوران ان کی صحت خاصی متاثر ہوئی ہے، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور انہیں بہتر طبی سہولیات کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ طبی رپورٹس میں ایسی کوئی پیچیدگی سامنے نہیں آئی جس کے لیے اسپتال میں طویل قیام یا فوری آپریشن کی ضرورت ہو۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اس ہفتے منگل کے روز ایک اہم حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ وہ ایک ایسے مجاز میڈیکل بورڈ سے اپنا معائنہ کروا سکیں جس میں ان کے ذاتی معالج بھی شامل ہوں۔ اس عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے جمعہ کی صبح انہیں سخت سکیورٹی میں اسپتال لایا گیا تھا جہاں معائنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

