واشنگٹن: معروف مصنوعی ذہانت (AI) کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مقبول ترین چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کا ایک نیا اور خصوصی ورژن پیش کر دیا ہے۔ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب کمپنی کو کم عمر صارفین بالخصوص نو عمر افراد کو خودکشی پر مائل کرنے کے الزامات اور سنگین قانونی چارہ جوئی کا سامنا تھا۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ’چیٹ جی پی ٹی فار ٹینز‘ (ChatGPT for Teens) نامی اس نئے ورژن کے حفاظتی پروٹوکولز خودکار طور پر ہر اس صارف کے لیے فعال ہو جائیں گے جو اپنی عمر 13 سے 17 سال کے درمیان درج کرے گا، یا جسے سسٹم استعمال کے پیٹرن کی بنیاد پر کم عمر تصور کرے گا۔
نئے ورژن کے نمایاں فیچرز اور پابندیوں کا احاطہ:
اس ماڈل میں کئی ایسے سکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو بچوں کی ذہنی صحت کو محفوظ رکھنے میں مدد دیں گے۔ ان میں درج ذیل اقدامات نمایاں ہیں:
خود کو نقصان پہنچانے اور خطرناک مواد پر کڑی پابندی: تشدد، خودکشی، ایٹنگ ڈس آرڈرز (کھانے سے متعلق عوارض) اور فحش یا واضح جنسی مواد پر مکمل قدغن لگائی گئی ہے۔
مطالعے کے لیے ’اسٹڈی موڈ‘: اس موڈ کے تحت چیٹ بوٹ بچوں کو فوری اور پکے پکائے جوابات دینے کے بجائے تعلیمی سوالات حل کرنے میں گائیڈ لائنز فراہم کرے گا تاکہ وہ خود سیکھ سکیں۔
ٹائم مینجمنٹ اور بلیک آؤٹ پیریڈز: اسکرین ٹائم کو محدود رکھنے کے لیے وقفے لینے کی بار بار یاد دہانیاں اور ’خاموش اوقات‘ (Quiet Hours) متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ صوتی فیچر (Voice Mode) کو بھی معطل رکھا گیا ہے۔
انسانی جذبات کا تاثر ختم کرنا: چیٹ بوٹ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود کو صارف کا ساتھی ظاہر نہ کرے اور نہ ہی یہ تاثر دے کہ اس کے پاس کوئی ذاتی جذبات یا اپنا شعور موجود ہے۔
والدین کے لیے مانیٹرنگ سسٹم:
نئے نظام کے تحت والدین کو اپنے اکاؤنٹس اپنے بچوں کے اکاؤنٹس کے ساتھ لنک کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ اگر کوئی نو عمر صارف خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے جیسی انتہائی خطرناک گفتگو کرتا ہے تو اس کی اطلاع والدین کو دی جائے گی۔ رازداری کے تحفظ کے لیے ان اطلاعات کا جائزہ انسانی نگران لیتے ہیں جبکہ مخصوص ذاتی تفصیلات حذف کر دی جاتی ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی کو دنیا بھر میں سخت ضابطہ جاتی دباؤ اور غلط موت سے متعلق مقدمات کا سامنا ہے۔ حال ہی میں 16 سالہ ایڈم رین کے والدین نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جن کا بیٹا مبینہ طور پر چیٹ جی پی ٹی کے بتائے گئے طریقوں سے موت کے منہ میں چلا گیا تھا۔
صرف اوپن اے آئی ہی نہیں بلکہ دیگر بڑی اے آئی کمپنیاں بھی اس ماحول کی لپیٹ میں ہیں۔ مسابقتی کمپنی ’اینتھروپک‘ نے بھی کم عمر صارفین کے خطرات کو دیکھتے ہوئے اپنے ماڈلز کا استعمال صرف بالغ افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکی کانگریس اور کیلیفورنیا میں بھی اے آئی اسسٹنٹس کے لیے سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

