واشنگتن: واپڈا کے ترسیلی نظام سے تنگ پاکستانی شہریوں کو شائد یہ سن کا اطمینان ہوگا کہ دنیا کی واحد سپر پاور کا حال بھی وطن عزیز جیسا ہی ہے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سپر پاور کہلانے والے امریکہ کا پاور گرڈ اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے اور خطرناک بحران سے دوچار ہے۔
ایک طرف جہاں ملک کا بجلی کے ترسیلی نظام کا بنیادی ڈھانچہ بوسیدہ ہو چکا ہے، وہیں دوسری طرف مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کی جانب سے بجلی کی اندھا دھند کھپت نے اس نظام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی کے امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس فرسودہ نظام پر کوئی مربوط فزیکل یا سائبر حملہ ہو گیا تو پورا ملک ایک لمحے میں معاشی اور صنعتی لحاظ سے اندھیروں میں ڈوب سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کی بجلی کی تقسیم کے تقریباً 75 فیصد ٹرانسفارمرز اور مجموعی ٹرانسفارمر فلیٹ کا 70 فیصد حصہ اپنی طے شدہ عمر (25 سے 38 سال) مکمل کر کے عرصے سے بوسیدہ ہو چکا ہے۔ صورتحال اس قدر گھمبیر ہے کہ بڑے پاور ٹرانسفارمرز کی تبدیلی یا نئے حصول کے لیے دو سے پانچ سال تک کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
امریکا اپنے بڑے پاور یونٹس کا تقریباً 80 فیصد حصہ باہر سے درآمد کرنے پر مجبور ہے، جو اسے عالمی سپلائی چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
ہاتھ سے خصوصی ٹرانسفارمر بنانے والے امریکی ہنر مند کاریگروں کی پرانی نسل اب رخصت ہو چکی ہے، جس سے تکنیکی مہارت کا ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم پاکستان وطن عزیز میں ابھی تک یہ کام اسی ہنرمندی سے کم از کم گذشتہ نصف صدی سے سرانجام دیا جارہا ہےاور ہم اپنے ایکسپرٹس امریکا بھیجنے کے لئے تیار بھی ہیں۔
اس بوسیدہ گرڈ کی حفاظت کا عالم یہ ہے کہ ملک بھر کے ہزاروں سب سٹیشنز کو کروڑوں ڈالر مالیت کے مہنگے آلات کی حفاظت کے لیے محض عام سی تاروں والی باڑ (Chain-link fencing) کا سہارا حاصل ہے۔
تحقیقی مطالعات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ اگر چند چوٹی کے ہائی وولٹیج سب سٹیشنز کو بیک وقت ناکارہ بنا دیا جائے تو پورے خطے یا ملک گیر بلیک آؤٹ (Blackout) کا دروازہ کھل سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ گرڈ کی تیزی سے ہونے والی ڈیجیٹلائزیشن نے جہاں سہولیات بڑھائی ہیں، وہیں روایتی توڑ پھوڑ کے ساتھ ساتھ ہیکرز کے لیے ریموٹ سائبر حملوں کے نئے راستے بھی کھول دیے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
”امریکا کا بجلی کا نظام بھی پاکستان جیسا“: پرانے ٹرانسفارمرز، سکیورٹی خامیوں اور اے آئی کے دباؤ نے سپر پاور کی بنیادیں ہلا دیں!

