تحریر: گاذر سلطان ڈاکٹر ذوالفقار احمد گاذر
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
وطن کی مٹی گواہ رہنا
_وہ شہید ہیں جو زندہ ہیں ہر دور میں
ان کی قربانی کی خوشبو ہے ہر طور میں_
قومیں اپنی بقا کے لیے جو قربانیاں دیتی ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اسلام کی تاریخ شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ کربلا سے لے کر پاکستان کے قیام تک، اور قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک… ہر دور میں اس مٹی کے بیٹوں نے اپنے لہو سے وطن کی آبیاری کی ہے۔جب بات وطن کے دفاع کی ہو تو شہادت سے بڑا کوئی مرتبہ نہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ”
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں۔
یہی آیت آج تونسہ شریف کے نواحی علاقہ مٹھےوالی کے بہادر بیٹے حافظ محمد رفیق گاذر کی شہادت پر ایک بار پھر سچ ثابت ہوئی۔
شہادت کی خبر
31
جولائی 2026 کی شام ایک افسوناک خبر نے پورے گاذر قبیلے کو غم کی چادر میں لپیٹ دیا۔ فرنٹیئر کور بلوچستان میں مادرِ وطن کی حفاظت کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے حافظ محمد رفیق گاذر نے دہشت گردوں سے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔
راقم الحروف گاذر سلطان ڈاکٹر ذوالفقار احمد گاذر نے شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں اپنے قبیلے کے اس نوجوان پر فخر ہے جس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ملک پاکستان کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ شہید حافظ محمد رفیق گاذر نے مادرِ وطن پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ایسے بہادر سپوت پوری قوم کا سرمایہ اور فخر ہیں، جن کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔”
انہوں نے مزید کہا: "شہداء کی یہ عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پاک فوج کے جوانوں کی بے مثال قربانیوں کی بدولت وطنِ عزیز محفوظ ہے، اور پوری قوم اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے۔”
_نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی_
تونسہ کے 3 لال وطن پر قربان
یہ صرف ایک شہادت نہیں۔ یہ ایک تسلسل ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں تحصیل تونسہ شریف نے 3 بہادر بیٹے وطن پر قربان کیے ہیں:
1. نائیک غلام فرید شادیوالہ – 16 دسمبر 2025
2. سپاہی محمد اسرار لاشاری – 2 جولائی 2026
3. حافظ محمد رفیق گاذر – 31 جولائی 2026
یہ تینوں نام اس بات کے گواہ ہیں کہ تونسہ کی مٹی بہادروں کی مٹی ہے۔ یہاں کی فضا میں وفا، غیرت اور حب الوطنی کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ لیکن ہر شہادت کے ساتھ ایک سوال بھی جنم لیتا ہے۔ ہر شہید کے پیچھے ایک غمزدہ ماں، ایک سفید ریش باپ، بہنیں، بھائی، بیوی اور معصوم بچے ہوتے ہیں، جن کا دکھ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
موجودہ ملکی حالات اور قوم سے اپیل
آج پاکستان دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے۔ بلوچستان سے لے کر خیبر تک، ہمارے جوان روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ شہداء کی ان قربانیوں کے تناظر میں اہلِ علاقہ اور گاذر قبیلہ حکومتِ پاکستان، سیکیورٹی اداروں اور پوری قوم سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. دہشت گردی کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے
2. سرحدوں اور اندرونِ ملک امن و امان کو فول پروف بنایا جائے
3. شہداء کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں
تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود نہ اجڑے اور کسی گھر کا چراغ نہ بجھے۔
گاذر قبیلہ اپنے اس شہید پر فخر کرتا ہے اور شہید کے اہل خانہ کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں برابر کا شریک ہے۔
اختتامیہ دعا
آخر میں دل کی گہرائیوں سے دعا ہے:
اللہ تعالیٰ شہید حافظ محمد رفیق گاذر سمیت تمام شہداء کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام اور سلامتی کا گہوارہ بنائے۔ آمین ثم آمین
_شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی_
انَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون


