نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ تحقیقی رپورٹ پر شدید تشویش، گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کیا ہے، جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 کے درمیان ہندوستان سے لاکھوں کی تعداد میں ملٹری اسلحہ جات اور توپ کے گولے اسرائیل کو بھیجے گئے ہیں۔
مولانا مدنی نے اس سنگین معاملے پر وزارتِ امورِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ردِعمل کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنے حساس بین الاقوامی معاملے پر حکومت کا ایسا رویہ ملک کی اخلاقی بنیادوں اور عالمی وقار کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
میڈیا کے نام جاری باضابطہ بیان میں مولانا مدنی نے کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف نے 2024 میں تمام ممالک کو واضح طور پر متنبہ کیا تھا کہ غاصبانہ قبضے اور نسل کشی کی کارروائیوں کے پیشِ نظر اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی روکی جائے۔ نیز 1949 کے جنیوا کنونشن اور 1948 کے نسل کشی کے تدارک کے کنونشن کی روشنی میں جنگی جرائم میں استعمال ہونے والے اسلحہ کی فراہمی پر سخت پابندی ہے۔ اس کے باوجود یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان ہتھیاروں کا استعمال معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں کے ایک طرفہ قتل عام میں ہو رہا ہے، اسلحہ سپلائی کرنا ایک مجرمانہ عمل اور نسل کشی میں شمولیت کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے بلکہ انسانیت اور ہندوستانیت کے دامن پر بدنما داغ ہے۔

