دیربالا (بیورو چیف: ریاض ابوالخیل)
سوات کی تحصیل کبل میں اتوار کی شام ایک ہولناک دھماکے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کبل پولیس اسٹیشن کے مرکزی گیٹ کے سامنے جاری احتجاجی مظاہرے کے دوران زور دار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 22 افراد، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، شہید جبکہ 25 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ریسکیو ٹیموں اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے شہداء اور زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا، جبکہ زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر سوات کے تمام بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکہ خودکش نوعیت کا تھا۔ جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ خودکش حملہ آور کا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی تصدیق فرانزک اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کی جائے گی۔
دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر ہر طرف قیامت کا منظر تھا۔ چیخ و پکار، آہ و بکا اور زخمیوں کی مدد کے لیے دوڑتے لوگوں نے دل دہلا دینے والے مناظر پیش کیے۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے پر جاری کی جائیں گی۔


