واشنگٹن ڈی سی :امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق افسر اور مرکزی تفتیش کار جون نکسن نے سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری اور ان سے کی گئی تفتیش سے متعلق کئی حیرت انگیز رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں نکسن نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن کی جنگی پالیسی اور انٹیلی جنس رپورٹس حقائق سے کوسوں دور تھیں۔
جون نکسن نے واضح کیا کہ سال 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے وقت صدام حسین کے پاس تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا وجود ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق جنگ کا فیصلہ کسی پختہ ثبوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ عراقی حکومت کا تختہ الٹنے کی سیاسی خواہش اور غلط انٹیلی جنس تخمینوں کے تحت کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے صرف انہی اطلاعات کو چنا جو جنگ کے حق میں تھیں جبکہ مخالف رپورٹوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔
نکسن نے اعتراف کیا کہ سی آئی اے نے صدام حسین کی شخصیت اور حکومت کے حوالے سے شدید غلط فہمیوں کا شکار ہو کر یہ سمجھا کہ وہ ریاست کے ہر چھوٹے بڑے معاملے پر خود نظر رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ اپنے اقتدار کے آخری برسوں میں صدام روزمرہ کے امور میں کم دلچسپی لیتے تھے اور اپنے معاونین پر زیادہ انحصار کرتے تھے۔
بغداد کے سقوط کے بعد صدام حسین کے فرار کے حوالے سے نکسن نے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کسی پیچیدہ منصوبے کی تلاش میں تھی، جبکہ صدام انتہائی سادگی کے ساتھ اپنے سکیورٹی گارڈز کو تبدیل کر کے چند قریبی ساتھیوں کے ہمراہ ایک معمولی گاڑی میں دارالحکومت سے نکل گئے تھے۔ نکسن نے بتایا کہ وہ بغداد کے قریب کروبر ڈٹینشن سینٹر میں ایک مہینہ صدام کے ساتھ بالمشافہ تفتیش کرتے رہے ہیں۔
سابق تفتیش کار کے مطابق صدام انتہائی شک مزاج اور رازدار شخصیت کے مالک تھے، وہ اپنے عزائم کو قریبی ساتھیوں سے بھی چھپاتے تھے اور حکومت میں بغاوت کی ہر کوشش کو وقت سے پہلے کچلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔

