بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شب ایک جذباتی ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی کے مقام جنتر منتر پر نیٹ (NEET) پیپر لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی مرحومہ والدہ کے خلاف انتہائی غلیظ اور ناشائستہ زبان استعمال کی۔ تاہم، انہوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام مظاہرین کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے۔
Abuses never solve anything.
Let’s guide the misguided.
Let’s work together.
Let’s work for Bharat. pic.twitter.com/yAePG60KYL
— Narendra Modi (@narendramodi) July 31, 2026
جنتر منتر پر طلبہ کے اس طویل احتجاج کی قیادت ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) نے کی تھی۔ یہ احتجاج 20 جون کو شروع ہوا تھا جو 36 دن جاری رہنے کے بعد 25 جولائی کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور حکومت کی طرف سے طلبہ کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ختم ہوا۔ اس تحریک کو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ اور اہم اپوزیشن جماعتوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی تھی۔
انسٹاگرام پر جاری کردہ ویڈیو میں پی ایم مودی نے کہا کہ وہ معاشرے کے غصے کو بخوبی سمجھتے ہیں، لیکن یہ وقت ان ’گمراہ بچوں‘ کو سزا دینے یا عدالتوں میں گھسیٹنے کا نہیں بلکہ انہیں گلے لگانے اور سیدھا راستہ دکھانے کا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مہذب معاشرے میں اس قسم کی زبان کا استعمال خاص طور پر بیٹیوں کی طرف سے ہونا ایک ‘کلچر شاک’ اور گہری ثقافتی تشویش کی بات ہے۔
وزیراعظم نے ایک درد بھرے انداز میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ "اگر کوئی دانت غلطی سے زبان کو کاٹ لے تو ہم دانت نہیں توڑتے کیونکہ دونوں ہمارے اپنے ہیں۔

