اسلام آباد :وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی زد میں رہا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کر دی۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ’بجٹ نا منظور‘ سمیت حکومت مخالف نعرے لگائے جس کے باعث ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا جبکہ بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
ہنگامے کے باوجود وزیرِ خزانہ نے اپنی تقریر جاری رکھی۔
اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اس بجٹ کو عوام دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے اپوزیشن کے طرزِ عمل کو غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایک اہم قومی دستاویز ہے، جس پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہونی چاہیے۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بجٹ اجلاس اکثر سیاسی کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں بجٹ تقاریر کے دوران نعرے بازی، واک آؤٹ اور احتجاج کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کرتی رہی ہیں، تاہم بعض مواقع پر صورتحال اس قدر کشیدہ ہو جاتی ہے کہ ایوان کی کارروائی بھی متاثر ہوتی ہے۔
قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی، ہاتھ پائی، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی تقریر جاری

