کراچی: سینٹرل پولیس آفس سندھ میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور سی ٹی ڈی حکام نے رینجرز تنصیب پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی گتھی سلجھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس حملے میں ملوث 13 دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کراچی رینجرز پر حملے میں ملوث ماسٹر مائنڈ اور دہشتگردوں کی سہلوتکاری میں ملوث ملزم دہشتگرد محمد بشیر عرف قاری حبیب کے دوران تفتیش انکشافات حملے میں ملوث تین دہشتگرد افغانی تھے دہشتگردوں کو اسلحہ فراہم کرنے ملزم کا وڈیو بیان جبکہ حملے سے قبل دہشتگردوں کی وڈیو بھی قانون نافذ کرنے… pic.twitter.com/rfqCkKTkWQ
— Samar Abbas (@Samarjournalist) July 14, 2026
ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ رینجرز پر حملے کا ماسٹر مائنڈ محمد بشیر عرف قاری حبیب ہے، جسے پاکستان سے افغانستان بلا کر حملے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کی منصوبہ بندی چار مراحل میں مکمل کی گئی:
پہلا مرحلہ: افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورک کی جانب سے منصوبہ بندی۔
دوسرا مرحلہ: دہشت گردوں کو پاکستان منتقل کرنا۔
تیسرا مرحلہ: مقامی سہولت کار گروپ کی جانب سے معاونت۔
چوتھا مرحلہ: حملہ آوروں کو اسلحہ اور خودکش جیکٹس کی فراہمی۔
حکام کے مطابق حملے میں شامل دہشت گردوں میں بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث تھا۔ خودکش بمبار ‘جانان’ اور ‘عمر فاروق’ کا تعلق افغانستان سے تھا، جبکہ ایک دہشت گرد ضلع باجوڑ کا رہائشی تھا۔ چوتھا دہشت گرد، جسے زندہ گرفتار کیا گیا، افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھتا ہے۔ سی ٹی ڈی نے گرفتار سہولت کاروں کے موبائل فونز سے حملے سے قبل دہشت گردوں کی ویڈیو بھی برآمد کر لی ہے، جبکہ ملزم قاری بشیر کا اعترافی ویڈیو بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔
ایس ایس پی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اس سازش میں کالعدم تنظیم کے سربراہ نور ولی، شیر علی، سعید شاہ اور جماعت الاحرار کا امیر بصیر عرف احرار ملا بھی شامل ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان تمام کرداروں کو بے نقاب کر دیا ہے اور باقی ماندہ سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ کراچی کا امن کسی کو برباد کرنے نہیں دیا جائے گا۔ رینجرز اور پولیس نے جس بہادری سے اس نیٹ ورک کو پکڑا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی دشمن عناصر اور مقامی سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

