سکھر (ڈویزنل بیوروچیف نصیر لاشاری کی رپورٹ)
سکھر خیرپور کے علاقہ گمبٹ کے ‘گمس’ ہسپتال میں داخل معذور لڑکی کا مبینہ طور پر گردہ نکالنے کے بعد قتل کیے جانے کا انکشاف ،مدیجی سے اغوا ہونے والی خالدہ میرانی کی لاش خفیہ طور پر دفنانے کا دعویٰ، بھائی کی جانب سے واقعے کی تصدیق،شکارپور پولیس کی کارروائی: سہولت کار خاتون اور اس کے بیٹے سمیت 3 ملزمان گرفتارگمبٹ: گمس () ہسپتال کے اندر مبینہ طور پر انسانی اعضاء (گردوں) کی غیر قانونی فروخت سے متعلق انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق دو ماہ قبل مدیجی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی معذور لڑکی مسمات خالدہ میرانی کو گمس ہسپتال لا کر، اس کا گردہ نکالنے کے بعد مبینہ طور پر قتل کرنے اور لاش کو خفیہ طور پر دفنانے کی اطلاعات ہیں۔ مقتولہ کے بھائی رفیق میرانی نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ذرائع کے مطابق، مدیجی سے لاپتہ ہونے والی اس معذور خاتون کو ایک اور خاتون نے لالچ دے کر گمبٹ ہسپتال پہنچایا، جہاں مقتولہ کو اپنی بیٹی ظاہر کر کے گمس ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس کا گردہ مدیجی کے ہی ایک بااثر شخص کو فروخت کر دیا گیا، جبکہ آپریشن کے دوران لڑکی انتقال کر گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی والدہ طویل عرصے تک بااثر افراد اور مدیجی پولیس کے چکر کاٹتی رہی لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ بعد ازاں، ورثاء کی جانب سے ایس ایچ او جمال پور جنید احمد ابڑو کو درخواست دینے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم شکیل منگی، اس کی والدہ نجمہ منگی اور سعید سومرو کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ گردہ خریدنے والا بااثر شخص فرار ہے اور پولیس ابھی تک اس تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے۔دوسری جانب علاقے کے عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے گمس ہسپتال کی انتظامیہ اور ڈائریکٹر رحیم بخش بھٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ہسپتال کے اندر اس قسم کے مبینہ غیر قانونی کام ہونے اور لاش غائب ہونے کے باوجود انتظامیہ خاموش کیوں ہے؟ علاقہ مکینوں اور مقتولہ کے ورثاء نے آئی جی سندھ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گمس ہسپتال کی انتظامیہ، ڈاکٹروں اور سہولت کاروں کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کرا کے غریبوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے اس گینگ کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

