کیلیفورنیا:سوشل میڈیا کمپنی ‘میٹا’ (Meta) نے پرائیویسی کے شدید خدشات اور عوامی تنقید کے بعد اپنے نئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس فیچر ‘میوز امیج’ (Muse Image) کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیچر، جسے رواں ہفتے ہی متعارف کرایا گیا تھا، صارفین کو انسٹاگرام کے عوامی (public) اکاؤنٹس سے تصاویر لے کر نئی تصاویر تخلیق کرنے کی سہولت دیتا تھا۔
فیچر پر تنازعہ کیوں ہوا؟
میٹا کی جانب سے اس فیچر کو ‘خودکار آپٹ-ان’ (automatic opt-in) کے طور پر پیش کیا گیا تھا، جس کا مطلب تھا کہ صارفین کی اجازت کے بغیر ان کی عوامی تصاویر کو AI ماڈل ٹریننگ اور امیج جنریشن کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ اس اقدام پر صارفین، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بالخصوص ہالی ووڈ کی یونین ‘SAG-AFTRA’ نے شدید احتجاج کیا۔
یونین اور فنکاروں کا ردِعمل:
مشہور اداکارہ ہینا آئن بائنڈر نے اس فیچر پر تنقید کرتے ہوئے صارفین کو اسے بند کرنے کا مشورہ دیا تھا، جبکہ اداکاروں کی یونین SAG-AFTRA نے اسے "غیر قبول شدہ” قرار دیا۔ یونین کا کہنا تھا کہ بغیر اجازت ڈیجیٹل نقل (digital replicas) بنانا انتہائی خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ یونین نے میٹا کے اس فیچر کو واپس لینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک درست اور ذمہ دارانہ قدم ہے۔
میٹا کے ترجمان نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ ان کا مقصد صارفین کو ایک تخلیقی ٹول فراہم کرنا تھا، تاہم انہیں احساس ہوا ہے کہ یہ فیچر توقعات کے مطابق نہیں تھا اور صارفین کی پرائیویسی سے متعلق تحفظات کو دور کرنے میں ناکام رہا۔ کمپنی نے کہا، "ہم نے رائے سنی ہے کہ یہ فیچر ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے اب یہ مزید دستیاب نہیں ہے۔”
میٹا کا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ اب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اس بات کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ صارفین کو واضح کنٹرول دیں کہ ان کا عوامی مواد AI فیچرز میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ AI کے دور میں پرائیویسی کے تحفظ اور صارفین کی رضامندی کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔
ہالی ووڈ اور صارفین کا احتجاج رنگ لے آیا: میٹا نے انسٹاگرام سے جڑا AI فیچر واپس لے لیا

