انقرہ: ترکی نے اپنی دفاعی خود مختاری کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’راکٹسان‘ (Roketsan) کے تیار کردہ فضائی بیلسٹک میزائل ’آئی ایچ اے-230‘ (IHA-230) کو باضابطہ طور پر ترک بری فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ اس میزائل کی شمولیت سے ترکی کے ڈرونز کی مار کرنے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
اس پیش رفت کا اعلان ترک وزارتِ دفاع کے ترجمان ریئر ایڈمرل زکی اکتورک نے ایک بریفنگ کے دوران کیا۔
’آئی ایچ اے-230‘: ڈرونز کے فولادی پنجے
راکٹسان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ’آئی ایچ اے-230‘ ایک سپر سونک (آواز سے تیز رفتار) میزائل ہے جس کی رینج 150 کلومیٹر سے زائد ہے۔ یہ میزائل خاص طور پر ‘بےraktar AKINCI’ اور ‘AKSUNGUR’ ڈرونز کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
میزائل کی نمایاں خصوصیات:
• وزن اور لمبائی: 225 کلوگرام وزنی اور 3.4 میٹر لمبا میزائل۔
• وار ہیڈ: اس میں 42 کلوگرام وزنی وار ہیڈ نصب ہے، جس میں فریگمنٹ، بکتر بند شکن (Armor-piercing) یا تھرموبارک آپشنز موجود ہیں۔
• ٹیکنالوجی: یہ ’فائر اینڈ فارگیٹ‘ (داگو اور بھول جاؤ) میزائل ہے جو جی این ایس ایس (GNSS) کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے، جس کی وجہ سے دشمن کے جیمنگ سسٹمز بھی اسے ہدف سے نہیں ہٹا سکتے۔
یہ میزائل دشمن کے ریڈارز، مواصلاتی مراکز، کمانڈ سینٹرز اور موبائل ایئر ڈیفنس سسٹمز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی آزمائش دسمبر 2022 میں شروع ہوئی تھی، جس میں مسلسل کامیابی کے بعد اب اسے باقاعدہ سروس میں شامل کر لیا گیا ہے۔
دفاعی خود مختاری: ترکی کا عزم
ترکی 2030 تک اپنی تقریباً تمام فوجی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایف-35 پروگرام سے نکالے جانے کے بعد انقرہ نے مقامی سطح پر پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے ’KAAN‘، ’Altay‘ مین بیٹل ٹینک اور جدید آبدوزوں جیسے بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔
اس کے علاوہ ترکی نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹمز پر بھی کام تیز کر دیا ہے۔ ’طیفون بلاک-4‘ (Tayfun Block-4) بیلسٹک میزائل اس کی ایک مثال ہے جو 800 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2026 تک متوقع ہے۔
ڈرون مارکیٹ پر ترکی کا غلبہ
ترکی اس وقت دنیا کی سب سے متنوع اور بااثر ڈرون فورس رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ’بائیکار‘ (Baykar) کمپنی کے تیار کردہ ڈرونز، خاص طور پر بائراکتار TB2 اور AKINCI، نے شام، لیبیا، آذربائیجان اور یوکرین جیسے تنازعات میں اپنی افادیت ثابت کی ہے۔
انقرہ کا دعویٰ ہے کہ وہ عالمی سطح پر میڈیم الٹیٹیوڈ (متوسط اونچائی پر اڑنے والے) کمبیٹ ڈرونز کی مارکیٹ کا 65 فیصد حصہ کنٹرول کرتا ہے، جس نے امریکا اور چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ صرف 2024 میں ترکی کی دفاعی برآمدات 7.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ بائیکار کے ڈرونز کی برآمدات 1.8 ارب ڈالر رہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی اب ایک ابھرتی ہوئی دفاعی طاقت کے طور پر دنیا پر چھا رہا ہے۔
ترکی کی ڈرون ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت: ‘آئی ایچ اے-230’ بیلسٹک میزائل ترک بری فوج میں شامل

