پاکستان نے گزشتہ 16 ماہ کے دوران اپنے زمینی مشاہداتی (Earth Observation) سیٹلائٹ نیٹ ورک میں غیرمعمولی توسیع کرتے ہوئے چھ نئے سیٹلائٹس خلا میں بھیجے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان سیٹلائٹس کی تعیناتی سے پاکستان کی بھارت، بالخصوص شمالی بھارت اور جموں و کشمیر کے علاقوں پر مسلسل نظر رکھنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے جون 2026 کے درمیان پاکستان نے مجموعی طور پر چھ سیٹلائٹس لانچ کیے، جن میں PAUSAT-1، PRSC-EO1، PRSS-2، HS-1، PRSC-EO2 اور PRSC-EO3 شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے مدار (Orbit)
میں موجود ہیں جہاں سے بھارتی علاقوں کی بار بار اور تفصیلی تصاویر حاصل کرنا ممکن ہے۔
جنگ بندی کے بعد خاموشی سے خلائی صلاحیتوں میں اضافہ
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد جنگ بندی کے معاہدے کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور زمینی سطح پر حالات نسبتاً مستحکم تصور کیے جا رہے ہیں۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس عرصے کے دوران خاموشی سے اپنی خلائی نگرانی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا ہے۔ اس عمل میں چین نے سیٹلائٹ ڈیزائن، تیاری اور لانچنگ سہولیات فراہم کرکے اہم کردار ادا کیا۔
جدید ٹیکنالوجی سے لیس سیٹلائٹس
پاکستانی حکام ان سیٹلائٹس کو زرعی ترقی، قدرتی آفات کے انتظام، ماحولیات کے مشاہدے اور قدرتی وسائل کی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے سویلین منصوبے قرار دیتے ہیں۔
تاہم دفاعی اور خلائی ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور کے زمینی مشاہداتی سیٹلائٹس عموماً ’’دوہری استعمال‘‘ (Dual-Use) صلاحیت رکھتے ہیں، یعنی انہیں شہری مقاصد کے ساتھ ساتھ عسکری اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان سیٹلائٹس میں درج ذیل جدید ٹیکنالوجیز نصب ہیں
ہائی ریزولوشن آپٹیکل امیجنگ سسٹمزہائپر اسپیکٹرل سینسرزمصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تصویر تجزیاتی نظاموسیع جغرافیائی نگرانی کی صلاحیت
ماہرین کے مطابق یہ نظام فوجی تنصیبات، انفراسٹرکچر میں تبدیلیوں، فوجی نقل و حرکت، سرحدی سرگرمیوں اور بحری نقل و حمل کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

