لاہور:پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایک اور بڑا "آپریشن کلین اپ” متوقع ہے۔ بنگلہ دیش کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں 0-2 کی عبرتناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیم کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سابق کپتان اور لیجنڈ بلے باز یونس خان کو ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنانے کا حتمی فیصلہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کو 2017 میں چیمپئنز ٹرافی جتوانے والے سابق کپتان سرفراز احمد، جنہیں اپریل میں ہی ٹیسٹ ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا، بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں وائٹ واش کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ یہ شکست پی سی بی اور کرکٹ حلقوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئی ہے، جس کے بعد ان کے عہدے پر خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
شان مسعود کی کپتانی بھی خطرے میں
صرف کوچ ہی نہیں، بلکہ ٹیسٹ کپتان شان مسعود کا مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ قیادت میں تبدیلی پر غور کر رہا ہے اور آل راؤنڈر سلمان آغا کو نیا ٹیسٹ کپتان بنانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
یونس خان اور محمد حفیظ کی بڑی انٹری
پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے یونس خان کو نہ صرف ہیڈ کوچ بلکہ قومی سلیکشن کمیٹی میں بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ یونس خان کی ڈریسنگ روم میں عزت اور ان کی لیڈرشپ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے پی سی بی کو امید ہے کہ وہ ٹیم کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔
دوسری جانب، سابق آل راؤنڈر محمد حفیظ کو ‘ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ’ جیسے اہم انتظامی عہدے پر تعینات کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ حفیظ، جو حال ہی میں ٹیم کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں، اب خود فیصلہ سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔
کیا یہ تبدیلیاں ٹیم کو سنبھال پائیں گی؟
پاکستان کرکٹ کا ہر خراب کارکردگی کے بعد اچانک اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کا پرانا وطیرہ ہے۔ اگرچہ یونس خان کا نام ایک ٹرانسفارمیٹو (تبدیلی لانے والی) شخصیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بورڈ انہیں کام کرنے کی حقیقی آزادی دے گا؟ ماضی میں کئی بڑے نام بورڈ کی مداخلت کے باعث ناکام رہے۔ اگر یونس خان کو مکمل اختیار اور وقت دیا گیا تو یہ تقرری ٹیم کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
کرکٹ کے حلقوں میں اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یونس خان کی آمد پاکستان کرکٹ میں نیا سورج طلوع کر پائے گی یا یہ محض ایک اور انتظامی تجربہ بن کر رہ جائے گی۔

