واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ امن معاہدے کا خاکہ سامنے آیا ہے، جس میں ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کا ایک بڑا تعمیرِ نو کا پیکیج شامل ہے۔ ‘نیویارک ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق، یہ امدادی اقدام ایک بین الاقوامی "انوسٹمنٹ فنڈ” کی شکل میں تشکیل دیا جا رہا ہے، جس کی سہولت امریکا فراہم کرے گا۔
معاہدے کے اہم نکات:
تجویز کردہ امن فارمولے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کئی بڑی رعایتیں اور سکیورٹی انتظامات شامل کیے گئے ہیں:
فوجی انخلا: معاہدے کے تحت امریکی افواج ایران کے گردونواح کے علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی اور امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب ناکہ بندی کے آپریشنز بند کر دے گی۔
بحری نقل و حمل: جواب میں ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز کے راستے تجارتی جہاز رانی کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے کا پابند ہوگا۔
انتظامی ذمہ داری: اس ڈرافٹ میں عسکری جہازوں کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت اور روٹنگ کا انتظام ایران اور عمان کے سپرد ہوگا۔
اس مجوزہ خاکے کو ایک ابتدائی 60 روزہ ‘امن وقفے’ (Truce) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد طویل مدتی امن معاہدے کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ اگر دونوں فریقین 60 دنوں کے اندر اس پر اتفاق کر لیتے ہیں، تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بائنڈنگ قرارداد کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے بدلے میں جنگی ہرجانے (Reparations) کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم، تاحال امریکا یا ایران کی جانب سے ان شرائط کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے اور مذاکرات کی صورتحال انتہائی تغیر پذیر ہے۔

