واشنگٹن/تہران: مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا بم حاصل نہیں کرے گا۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم’’ ٹروتھ سوشل‘‘ پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول ٹیکس کے مکمل طور پر کھولا جانا چاہیے تاکہ جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔ اگر سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہیں تو انہیں ختم کیا جائے گا اور امریکا پہلے ہی اپنے جدید مائن سویپرز کے ذریعے کئی سرنگوں کو تباہ کر چکا ہے جبکہ باقی بارودی سرنگوں کو ایران فوری طور پر ہٹائے گا یا تباہ کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی اب ختم کردی جائے گی، اس ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے جہاز اب واپسی کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ تاحکم ثانی کسی قسم کی مالی ادائیگی نہیں کی جائے گی جبکہ دیگر کم اہم امور پر اتفاق ہو چکا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے سچویشن روم میں اجلاس کرنے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں کیے گئے دعوے تہران میں شدید تحفظات کا باعث بنے ہیں۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے منسلک ‘فارس نیوز’ نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات "سچ اور جھوٹ کا ایک مرکب” ہیں اور ان کا تہران میں زیرِ غور ڈرافٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کے ‘سچویشن روم’ جاتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے کچھ حصوں پر اتفاق ہو چکا ہے اور وہ حتمی فیصلے کے لیے اجلاس کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول کے ٹریفک کے لیے فوری طور پر کھولنے اور وہاں موجود بارودی سرنگوں کو ہٹانے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا، ایران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ مل کر ایران کے افزودہ شدہ ایٹمی مواد کو تباہ کرنے کا عمل شروع کرے گا۔
تاہم، آئی آر جی سی سے وابستہ ‘تسنیم نیوز’ نے ان دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی بھی ابتدائی معاہدے سے قبل ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔
Axios کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے ایٹمی مواد کے حوالے سے "زبانی یقین دہانی” تو ملی ہے، لیکن اصل اہمیت رسمی مذاکرات میں ہونے والے تحریری معاہدے کی ہوگی۔ فی الحال، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور کسی بھی میمورنڈم کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ان مذاکرات کا مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے، جہاں امریکا اسے عالمی تجارت کے لیے کھلا دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنی تزویراتی (اسٹریٹجک) طاقت اور سودے بازی کے لیے استعمال کررہاہے۔
ایران امریکا معاہدہ پر اتفاق رائے ، حتمی فیصلے کے لئے صدر ٹرمپ سچوایشن روم پہنچ گئے

