تحریرحاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے سے لے کر موٹرویز ,CPEC، توانائی منصوبوں اور معاشی ترقی کے سفر تک صرف اور صرف ایک ہی نام اور وہ ہے میاں نواز شریف جن کی قیادت میں پاکستان نے کئی تاریخی سنگِ میل عبور کئے۔ یہی وہ کارکردگی ہے جو آج بھی ان کی سیاسی پہچان ہے۔
اب رہی مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت۔جس نے عوام کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔ ہر بندہ مشکل میں اور ہر بندہ پریشان۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انکا عوام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ہر فیصلہ عوام کے خلاف اور اشرافیہ کے حق میں جنہیں نوازنا انہوں نے اپنا مشن بنا لیا ہے لیکن کب تک۔! ۔عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور سب جانتے ہیں۔ یہ اپنی کونسی کارکردگی لیکر عوام کے پاس جائیں گے۔؟
ذرا سوچیں کہ ہر ملک کے ذرائع آمدن ہمیشہ تجارت اور برامدات ہوا کرتی ہیں لیکن دنیا میں پاکستان شائد واحد ملک ہے جس کے ذرائع پیٹرولیم پر لگائی گئی لیوی اور سڑکوں پر وصول کئے جانیوالے محصولات ہیں۔اس پہ مزید ہولناک صورتحال یہ ہے کہ جو کوئی شخص اس نیٹ میں پھنس جاتا ہے اسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا جب تک سب کچھ اس سے چھین نہ لیا جاۓ۔ دوسری طرف پاکستان کے بعض علاقے ایسے بھی ہیں جو بجلی کا ماہانہ بل ادا نہیں کرتے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ان لوگوں کا بل بھی ان لوگوں سے جبرا” وصول کر لیا جاتا ہے جو پہلے ہی حکومت سے ڈرتے ہوۓ باقائدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات پر لگائی جانے والی لیوی اور بجلی کے بلوں پر لگاۓ گئے تیرہ قسم کے ناروا اور غیر قانونی ٹیکسز سے حکومت اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔۔ایک طرف یہ اور دوسری طرف جو دوکاندار ایف بی آر کے نیٹ میں پھنس جاتا ہے وہ بھاری ٹیکس بھی دیتا ہے اور سارا سال سولی پر بھی لٹکا رہتا ہے اس وجہ سے کہ ریٹرن جمع نہ کروائی تو بھاری جرمانے بھی سہنے پڑیں گےجبکہ ریٹرن جمع نہ کروانے والا تاجر ہر قسم کی فکر اور پریشانی سے آزاد رہ کر زندگی گزارتا ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے جو اپنا لیا گیا ہے۔
ادھر عوام کے پاس صرف اور صرف دو ہی سرکاری سہولیات تھیں۔۔۔ ایک سرکاری سکول۔۔۔ اور۔۔۔۔ دوسرا سرکاری ہسپتال۔سرکاری اسکول جن میں تمام کیٹیگریز کے اسکولز اور کالجز آتے ہیں۔۔۔۔خیر سے اب بند ہوتے جا رہے ہیں۔طویل عرصے سے بنا ہوا ایک بہترین سیٹ اپ۔۔۔ اب خاک میں ملنے کو ہے۔دوسری طرف سرکاری ہسپتال۔۔۔ جہاں نہ ڈاکٹر ملتا ہے اور نہ ہی دوائیاں۔مریض ذلیل و خوار اور سب نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔حکومت نے انہیں درست کرنیکا یہ حل سوچا ہے کہ ان سے جان ہی چھڑوا لو۔”نہ ہوگا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری”لہذا اب خیر سے حکومت یہ دونوں سہولیات بھی پرائیویٹ کرنے جارہی ہے۔کچھ بیچ دیئے اور باقی بک جائیں گے۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ حکومت عوام سے ٹیکس کس بات کا لیتی ہے اور بدلے میں عوام کو کیا دیتی ہے۔؟ عوام کو سہولیات دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔کیا حکومت اب اپنی آئینی ذمہ داری بھی پوری نہیں کریگی تو پھر کریگی کیا۔
روزگار کی فراہمی کی بات کریں تو ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرے لیکن حکومت عوام کو روزگار دینے کی بجاۓ اسے بھکاری بنانے پر زیادہ آمادہ نظر آتی ہے۔اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی مد میں 530 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے جو ہمارے ملک کی غالب آبادی والی خواتین کو بھکاری بنانے کے منصوبے پر خرچ کی جاۓ گی حالانکہ اتنی بڑی رقم کو استعمال کرکے ان مستحق مرد و خواتین کیلئے ملک میں بہت سی فیکٹریاں لگائی جا سکتی ہیں یا ہنر مند بنانے کے ادارے بناۓ جا سکتے ہیں جہاں پہ انہیں کسی بھی قسم کا ہنر سکھانے کے بعد روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے۔
چنانچہ ان حکمرانوں سے یہی کہنا ہے کہ آپ نیلے پیلے سبز اور نہ جانے کون کونسے کلر کے باغ دیکھا کر اقتدار میں آ گئے ہیں تو اب ریلیف دینا بھی آپ ہی کا کام ہے ۔ ان لوگوں کو جنہوں نے آپ کو ووٹ دیا اور آپ کو اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان کیا۔آپ کو اقتدار میں اس لئے لایا گیا تھا کہ آپ عوام کو مسائل سے نجات دلائیں۔انہیں مہنگائی سے چھٹکارا دلائیں۔انہیں انصاف مہیا کریں۔ان کے اشک پونچھیں۔انکی خدمت کو اپنا شعار بنائیں لیکن آپ نے تو ان کو رونے پہ مجبور کر دیا ہے۔ حکومت کو اس طرف توجہ کرنی چاہیئے۔

