Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ڈھائی سیکنڈ میں 96 کلومیٹر فی گھنٹہ اسپیڈ، فراری کی پہلی الیکٹرک گاڑی ’لوس‘ لانچ ، قیمت اور خصوصیات جانئیے

      جدید ٹیکنالوجی کا  انقلابی استعمال،ڈرونز کے ذریعے حجاج کرام تک ادویات اور طبی سامان کی فراہمی 

      تاریخ کا پہیہ گھوم گیا: غلامی کو جائز قرار دینے پر پوپ لیو XIV کی معافی ،ویٹیکن نے AI کو نئی غلامی قراردیدیا،”میگنیفیکا ہیومینٹس” جاری

      پوپ لیو XIV کی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والوں کو سخت وارننگ، AI artificial inteligence پر پہلا ’’انسائیکلوکل‘‘ جاری

      اے ٹی ایم فراڈ : اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو بڑا حکم جاری کردیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    صدرٹرمپ کا استثنیٰ : نیا ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ’ ’’ متعارف ،صدر کیخلاف گواہی دینے پر سزا ساتھ دینے پر انعام ملے گا‘‘

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت نے امریکی سیاسی نظام میں ایک ایسے نئے باب کا آغاز کر دیا ہے جہاں صدارتی احتساب کا تصور دھندلا پڑ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ 1.8 ارب ڈالر کا متنازع ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ’ (Anti-Weaponization Fund) اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جسے ناقدین صدر کو قانونی تحقیقات سے بچانے اور اپنے حلیفوں کو نوازنے کا ایک "خطرناک ہتھیار” قرار دے رہے ہیں۔
    سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ ان امریکیوں کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے جو اپنی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے "قانون کا نشانہ” (Lawfare) بنے۔ تاہم، قانون دانوں اور آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فنڈ درحقیقت صدر ٹرمپ، ان کے خاندان اور کاروباری مفادات کو ماضی اور حال کی تمام قانونی تحقیقات سے مکمل استثنیٰ دینے کے لیے استعمال ہوگا۔ اس معاہدے کی شرائط اتنی وسیع ہیں کہ یہ محض ٹیکس تحقیقات تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ کسی بھی وفاقی ادارے کی جانب سے ٹرمپ کے ماضی کے اقدامات کی جانچ پڑتال کو روکنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
    احتساب کے راستے میں رکاوٹیں صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں ‘واٹر گیٹ’ سکینڈل کے بعد قائم کیے گئے شفافیت کے تمام تقاضوں کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔
    انسپکٹر جنرلز کی برطرفی: ان حکام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جو ایجنسیوں کے اندر کرپشن اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرتے تھے۔
    پاور آف دی پرس پر حملہ: کانگریس کی بجٹ کنٹرول کرنے کی طاقت کو کمزور کرنا۔
    وفاداروں کو انعامات: ایسے افراد کو معافی (Clemency) دینا جو صدر کے مفادات کے لیے قانون شکنی کرتے رہے، جبکہ تحقیقات کرنے والوں کو نوکریوں سے نکالنا۔
    یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر ایڈم زمرمین نے اسے نظامِ حکومت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی صدارتی تاریخ میں اختیارات کا ایک ڈرامائی جھکاؤ ہے جو اب صرف صدر کی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فنڈ لوگوں کو حکومتی تحقیقات میں تعاون کرنے سے روکنے کے لیے ایک "لالچ” کے طور پر کام کرے گا، کیونکہ جو کوئی صدر کے خلاف گواہی دے گا، اسے سزا ملے گی، اور جو وفاداری نبھائے گا، وہ اس فنڈ سے نوازا جائے گا۔
    سپریم کورٹ کا کردار اور وحدانی ایگزیکٹو نظریہ ٹرمپ کے مقرر کردہ ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کا قدامت پسند اکثریتی بینچ، ‘یونیٹری ایگزیکٹو’ (Unitary Executive) تھیوری کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت صدر کو ایجنسیوں کے سربراہان کو کسی بھی وجہ کے بغیر ہٹانے کا اختیار حاصل ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے ٹرمپ نے بجٹ خرچ کرنے کی کانگریسی طاقت کو بھی چیلنج کر دیا ہے، جس سے صدر اب کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی بڑے پیمانے پر فنڈز خرچ کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
    "اب صرف مواخذہ ہی آخری راستہ ہے” کانگریس کے سابق جنرل کونسل ڈوگ لیٹر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا موجودہ طرزِ حکمرانی اس سے کہیں زیادہ آگے نکل چکا ہے جتنا آئین سازوں نے کبھی سوچا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب نظامِ حکومت کے کام کرنے کے لیے جس "شریفانہ طرزِ عمل” کی ضرورت تھی، وہ ختم ہو چکا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکی آئین میں صدر کو روکنے کے لیے کوئی حقیقی چیک باقی ہے؟ ماہرین کا متفقہ جواب ہے: "سوائے مواخذے (Impeachment) کے، اب کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔”

    Related Posts

    مسلم ممالک فوری معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ، عمان کو تباہ کرنیکی دھمکی

    مئیر لندن صادق خان نے بھی حج کرلیا، مسلمانوں کو عید کی مبارکباد

    باون فیصد امریکی شہریوں کی ایران جنگ ختم کرنے کی حمایت،ٹرمپ پراعتماد بھی کم ہونے لگا

    مقبول خبریں

    مسلم ممالک فوری معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ، عمان کو تباہ کرنیکی دھمکی

    مئیر لندن صادق خان نے بھی حج کرلیا، مسلمانوں کو عید کی مبارکباد

    صدرٹرمپ کا استثنیٰ : نیا ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ’ ’’ متعارف ،صدر کیخلاف گواہی دینے پر سزا ساتھ دینے پر انعام ملے گا‘‘

    باون فیصد امریکی شہریوں کی ایران جنگ ختم کرنے کی حمایت،ٹرمپ پراعتماد بھی کم ہونے لگا

    بنگلہ دیش نے ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ کی قربانی آخری لمحوں پر رکوا دی

    بلاگ

    عطائیت کا ناسور: مریض، ڈاکٹر اور نظامِ صحت کب تک یرغمال؟

    قربانی یا آلودگی؟ عید پر صحتِ عامہ کو درپیش خطرات عید قرباں: عبادت بھی، صحت کی آزمائش بھی

    ہم کب سیکھیں گے؟

    ”پاکستانی تاریخ کے سپیڈبریکر “ میاں حبیب کا کالم

    حج — کس کو بلاوا آیا اور کس کا حج قبول ہوا؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.