واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت نے امریکی سیاسی نظام میں ایک ایسے نئے باب کا آغاز کر دیا ہے جہاں صدارتی احتساب کا تصور دھندلا پڑ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے قائم کردہ 1.8 ارب ڈالر کا متنازع ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ’ (Anti-Weaponization Fund) اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جسے ناقدین صدر کو قانونی تحقیقات سے بچانے اور اپنے حلیفوں کو نوازنے کا ایک "خطرناک ہتھیار” قرار دے رہے ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ ان امریکیوں کی مدد کے لیے بنایا گیا ہے جو اپنی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے "قانون کا نشانہ” (Lawfare) بنے۔ تاہم، قانون دانوں اور آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فنڈ درحقیقت صدر ٹرمپ، ان کے خاندان اور کاروباری مفادات کو ماضی اور حال کی تمام قانونی تحقیقات سے مکمل استثنیٰ دینے کے لیے استعمال ہوگا۔ اس معاہدے کی شرائط اتنی وسیع ہیں کہ یہ محض ٹیکس تحقیقات تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ کسی بھی وفاقی ادارے کی جانب سے ٹرمپ کے ماضی کے اقدامات کی جانچ پڑتال کو روکنے کی طاقت رکھتی ہیں۔
احتساب کے راستے میں رکاوٹیں صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں ‘واٹر گیٹ’ سکینڈل کے بعد قائم کیے گئے شفافیت کے تمام تقاضوں کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔
انسپکٹر جنرلز کی برطرفی: ان حکام کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جو ایجنسیوں کے اندر کرپشن اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرتے تھے۔
پاور آف دی پرس پر حملہ: کانگریس کی بجٹ کنٹرول کرنے کی طاقت کو کمزور کرنا۔
وفاداروں کو انعامات: ایسے افراد کو معافی (Clemency) دینا جو صدر کے مفادات کے لیے قانون شکنی کرتے رہے، جبکہ تحقیقات کرنے والوں کو نوکریوں سے نکالنا۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے پروفیسر ایڈم زمرمین نے اسے نظامِ حکومت کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی صدارتی تاریخ میں اختیارات کا ایک ڈرامائی جھکاؤ ہے جو اب صرف صدر کی ذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فنڈ لوگوں کو حکومتی تحقیقات میں تعاون کرنے سے روکنے کے لیے ایک "لالچ” کے طور پر کام کرے گا، کیونکہ جو کوئی صدر کے خلاف گواہی دے گا، اسے سزا ملے گی، اور جو وفاداری نبھائے گا، وہ اس فنڈ سے نوازا جائے گا۔
سپریم کورٹ کا کردار اور وحدانی ایگزیکٹو نظریہ ٹرمپ کے مقرر کردہ ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کا قدامت پسند اکثریتی بینچ، ‘یونیٹری ایگزیکٹو’ (Unitary Executive) تھیوری کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت صدر کو ایجنسیوں کے سربراہان کو کسی بھی وجہ کے بغیر ہٹانے کا اختیار حاصل ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے ٹرمپ نے بجٹ خرچ کرنے کی کانگریسی طاقت کو بھی چیلنج کر دیا ہے، جس سے صدر اب کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی بڑے پیمانے پر فنڈز خرچ کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔
"اب صرف مواخذہ ہی آخری راستہ ہے” کانگریس کے سابق جنرل کونسل ڈوگ لیٹر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا موجودہ طرزِ حکمرانی اس سے کہیں زیادہ آگے نکل چکا ہے جتنا آئین سازوں نے کبھی سوچا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب نظامِ حکومت کے کام کرنے کے لیے جس "شریفانہ طرزِ عمل” کی ضرورت تھی، وہ ختم ہو چکا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا امریکی آئین میں صدر کو روکنے کے لیے کوئی حقیقی چیک باقی ہے؟ ماہرین کا متفقہ جواب ہے: "سوائے مواخذے (Impeachment) کے، اب کوئی دوسرا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔”
صدرٹرمپ کا استثنیٰ : نیا ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ’ ’’ متعارف ،صدر کیخلاف گواہی دینے پر سزا ساتھ دینے پر انعام ملے گا‘‘

