Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    قربانی یا آلودگی؟ عید پر صحتِ عامہ کو درپیش خطرات عید قرباں: عبادت بھی، صحت کی آزمائش بھی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: ڈاکٹر داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    عید الاضحیٰ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایثار، قربانی، نظم و ضبط اور معاشرتی ذمہ داری کا عملی درس بھی ہے۔ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جانور قربان کرتے ہیں اور اس عظیم عبادت کے ذریعے سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس مقدس عمل کے ساتھ صحتِ عامہ، صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے بنیادی اصول اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد بیماریاں، ماحولیاتی آلودگی، فوڈ پوائزننگ اور دیگر طبی مسائل جنم لیتے ہیں۔
    قربانی سے متعلق صحت کے خطرات دراصل جانور خریدنے کے مرحلے سے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔ بکرے، گائے، اونٹ اور بھیڑ جیسے جانور بعض اوقات ایسی بیماریاں اپنے اندر رکھتے ہیں جو انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں، جنہیں طب کی زبان میں “زونوٹک ڈیزیز” کہا جاتا ہے۔ ان میں بروسیلوسس، اینتھراکس، تپِ دق، سالمونیلا، کیو فیور، جلدی فنگس اور مختلف پرجیوی بیماریاں شامل ہیں۔ جانوروں کے تھوک، خون، پیشاب، پاخانے یا آلودہ سطحوں سے رابطہ بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے، خصوصاً بچوں، قصابوں، ٹرانسپورٹرز اور جانوروں کے دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ بظاہر صحت مند نظر آنے والے جانور بھی بیماریوں کے جراثیم اپنے اندر رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے غیر معیاری اور گنجان مویشی منڈیوں سے جانور خریدتے وقت احتیاط انتہائی ضروری ہے۔
    جانوروں کا فضلہ بھی صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ گھروں، گلیوں یا سڑکوں پر پڑا ہوا گوبر اور پیشاب مکھیوں، مچھروں اور جراثیم کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔ یہ آلودگی پانی اور خوراک تک پہنچ کر معدے اور آنتوں کی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے۔ بچوں کا ان جانوروں کے قریب کھیلنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جانوروں کو صاف، ہوا دار جگہ پر رکھا جائے، ان کے فضلے کو بروقت ٹھکانے لگایا جائے، اور جانوروں کو ہاتھ لگانے کے بعد صابن سے ہاتھ اچھی طرح دھوئے جائیں۔
    ذبح کے عمل میں صفائی کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ اکثر غیر تربیت یافتہ قصاب ایک ہی آلودہ چھری یا آلات کو بار بار استعمال کرتے ہیں، جس سے ایک جانور سے دوسرے جانور تک جراثیم منتقل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سڑکوں پر بہتا خون، کھلا پڑا گوشت اور جمع شدہ آلائشیں بیکٹیریا اور حشرات کے لیے بہترین ماحول پیدا کرتی ہیں۔ اسلام نے صفائی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
    “بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرنے والے اور پاک رہنے والے ہیں۔”
    (سورۃ البقرہ: 222)
    ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
    “اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔”
    (سورۃ المدثر: 4)
    یہ آیات صرف روحانی پاکیزگی ہی نہیں بلکہ جسمانی صفائی، نظم و ضبط اور معاشرتی صحت کے اصولوں کی بھی واضح تعلیم دیتی ہیں۔
    ہمارے معاشرے میں قربانی کے فوراً بعد جگر نکال کر جلدی پکانے کا رواج عام ہے۔ اگرچہ تازہ جگر پسند کیا جاتا ہے، لیکن نیم پکا یا غیر مناسب طریقے سے صاف کیا گیا جگر ٹاکسوپلاسموسس اور دیگر پرجیوی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح گوشت کو اچھی طرح نہ دھونا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ خون آلود گوشت جراثیم کی افزائش کے لیے بہترین ذریعہ بنتا ہے۔ قرآنِ مجید میں خون کو حرام قرار دیا گیا ہے:
    “تم پر مردار، خون اور سور کا گوشت حرام کیا گیا ہے۔”
    (سورۃ المائدہ: 3)
    جدید سائنس بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ خون میں جراثیم اور آلودگی موجود ہو سکتی ہے جو گوشت کو جلد خراب کر دیتی ہے۔
    ترقی یافتہ ممالک میں گوشت کو محفوظ بنانے کے لیے سخت فوڈ سیفٹی اصول اپنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات گوشت کو منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک 48 سے 72 گھنٹے منجمد کیا جاتا ہے تاکہ ممکنہ پرجیوی اور جراثیم ختم ہو سکیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں عید کے دنوں میں گوشت گھنٹوں کھلے ماحول میں پڑا رہتا ہے، بغیر مناسب ٹھنڈک کے منتقل کیا جاتا ہے، یا بار بار بجلی جانے کی وجہ سے فریزر پگھلتے اور دوبارہ جمते رہتے ہیں۔ اس عمل سے سالمونیلا، ای کولی اور اسٹیفیلوکوکس جیسے خطرناک بیکٹیریا تیزی سے بڑھتے ہیں۔ گوشت کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے فوراً ٹھنڈا کرنا اور بار بار پگھلانے سے بچانا ضروری ہے۔
    عید کے بعد ضرورت سے زیادہ گوشت کھانا بھی کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ مرغن اور مصالحے دار گوشت کا زیادہ استعمال بدہضمی، تیزابیت، قبض، اسہال، گیسٹرائٹس، پتّے کے درد، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، ذیابیطس اور گردوں کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ گاؤٹ اور ہائی کولیسٹرول کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ اعتدال کی تعلیم دی ہے، جبکہ طب بھی یہی مشورہ دیتی ہے کہ خوراک میں توازن رکھا جائے۔
    قربانی کے بعد آلائشوں کی غیر ذمہ دارانہ تلفی ہمارے شہروں کی ایک بڑی بدقسمتی بن چکی ہے۔ آنتیں، اوجڑی، معدے کا مواد، خون اور دیگر فضلہ اکثر سڑکوں، نالوں یا خالی پلاٹوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس سے شدید بدبو، مکھیوں کی افزائش، جراثیمی آلودگی اور ماحولیاتی تباہی پیدا ہوتی ہے۔ یہی مکھیوں بعد میں گھروں اور خوراک تک جراثیم منتقل کرتی ہیں۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ اوجڑی، پائے اور دیگر اندرونی اعضا جیسے قیمتی غذائی حصے اکثر محض صفائی کی زحمت سے بچنے کے لیے ضائع کر دیے جاتے ہیں، حالانکہ مناسب صفائی اور پکانے کے بعد یہ غذائیت سے بھرپور خوراک بن سکتے ہیں۔ اسی طرح غیر تربیت یافتہ قصاب جانور کی کھال کو گہرے کٹ لگا کر نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے اس کی مالی اور فلاحی قدر کم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ یہی کھالیں مدارس، فلاحی اداروں اور مستحقین کے لیے ایک اہم ذریعہ آمدن ہوتی ہیں۔
    ماہرینِ صحت مسلسل خبردار کرتے ہیں کہ عید الاضحیٰ خوشی کے ساتھ ساتھ احتیاط کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اسلام صرف قربانی کا حکم نہیں دیتا بلکہ صفائی، ذمہ داری، نظم اور انسانی صحت کے تحفظ کا بھی درس دیتا ہے۔ قربانی کا اصل مقصد محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے عمل سے معاشرے میں خیر، صفائی اور آسانی پیدا کرنا بھی ہے۔
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایمان اور صفائی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ صاف ماحول، محفوظ خوراک، مناسب فضلہ تلفی، اعتدال پسند خوراک اور عوامی مقامات کا احترام بھی عبادت کا حصہ ہیں۔ اگر ہماری قربانی سے گلیاں آلودہ ہوں، بیماریاں پھیلیں اور لوگوں کو تکلیف پہنچے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ عید خوشیوں، رحمتوں اور ذمہ داری کا نام ہے، غفلت، آلودگی اور بیماریوں کا نہیں۔

    Related Posts

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.