تحریر: سہیل احمد رانا
ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہوئی ہے، وہیں صحت سے متعلق غلط معلومات ایک سنگین عالمی مسئلہ بن کر ابھر رہی ہیں، اور پاکستان اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر خود ساختہ “ماہرین” اور بعض اوقات مستند ڈاکٹرز بھی بغیر مناسب حوالہ جات کے ایسی معلومات فراہم کر رہے ہیں جو نہ صرف سائنسی بنیادوں سے محروم ہوتی ہیں بلکہ براہِ راست عوامی صحت کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔ مسئلہ صرف معلومات کی فراہمی کا نہیں بلکہ “وائرل ہونے” کی دوڑ کا ہے، جہاں سادہ، سنسنی خیز اور فوری نتائج دینے والے دعوے سائنسی پیچیدگیوں پر سبقت لے جاتے ہیں۔
اس رجحان کا سب سے خطرناک پہلو “ثبوت بمقابلہ مقبولیت” (Evidence vs Virality) کا تصادم ہے۔ مستند طبی تحقیق برسوں پر محیط ہوتی ہے، جس میں کلینیکل ٹرائلز، پیئر ریویو اور بین الاقوامی گائیڈ لائنز شامل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، سوشل میڈیا پر چند منٹ کی ویڈیو میں پیچیدہ بیماریوں کے “آسان علاج” پیش کیے جاتے ہیں، جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، اس قسم کی گمراہ کن معلومات کو “انفوڈیمک” (Infodemic) کہا جاتا ہے، جو کسی بھی وبا کے دوران بیماری کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے کیونکہ لوگ درست طبی رہنمائی کی بجائے غیر مستند ذرائع پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، ڈاکٹر مریض تناسب کم ہے، اور عوام کی بڑی تعداد طبی معلومات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں جب کوئی “یوٹیوب ڈاکٹر” بغیر تشخیص کے ادویات تجویز کرتا ہے یا گھریلو ٹوٹکوں کو سائنسی علاج کے متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے، تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں غلط علاج، بیماری کی شدت میں اضافہ، اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیاں۔ طبی پیشہ ور افراد کی اخلاقی ذمہ داری کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے ڈاکٹروں کو ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ آگاہی پھیلا سکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ محض فالوورز بڑھانے یا ویوز حاصل کرنے کے لیے ادھوری یا غیر مصدقہ معلومات فراہم کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ بددیانتی ہے بلکہ طبی اخلاقیات (Medical Ethics) کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ ایک مستند ڈاکٹر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر بیان کو شواہد، گائیڈ لائنز اور تحقیق کی بنیاد پر پیش کرے، نہ کہ ذاتی تجربات یا غیر سائنسی دعووں پر۔
مزید برآں، اس رجحان نے مریضوں کے رویے میں بھی واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب مریض ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے خود تشخیص(Self-diagnosis) کر چکے ہوتے ہیں اور بعض اوقات ڈاکٹر کے مشورے کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف علاج کے عمل کو پیچیدہ بناتا ہے بلکہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ نتیجتاً، علاج میں تاخیر، غلط ادویات کا استعمال، اور بیماری کے بگڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی ریگولیشن میں نہیں بلکہ ایک کثیر الجہتی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پر طبی مواد کے لیے واضح گائیڈ لائنز متعارف کرانی چاہئیں۔ دوم، مستند ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ خود ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فعال ہو کر سائنسی اور قابلِ اعتبار معلومات فراہم کریں تاکہ غلط معلومات کا توڑ کیا جا سکے۔ سوم، عوامی سطح پر “ہیلتھ لٹریسی” کو فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ لوگ درست اور غلط معلومات میں فرق کر سکیں۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معلومات کی زیادتی ہمیشہ علم میں اضافے کا باعث نہیں بنتی خاص طور پر جب وہ معلومات غیر مصدقہ ہوں۔ یوٹیوب ڈاکٹرز کا یہ بڑھتا ہوا رجحان درحقیقت ایک خاموش وبا ہے، جو اگر بروقت کنٹرول نہ کی گئی تو صحت عامہ کے نظام پر اس کے اثرات کسی بھی متعدی بیماری سے کم نہیں ہوں گے۔


