Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اے آئی کے میدان میں بازی پلٹ گئی: ایپل کی واپسی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی کون؟

      ویوو X300 FE کی پاکستان میں انٹری؛ 5000 نٹس برائٹنس اور 6500mAh بیٹری کے ساتھ نیا ریکارڈ

      ہندوستان کی پہلی ہائیڈروجن ٹرین پٹری پر دوڑ پڑی

      مصنوعی ذہانت کا مستقبل: پاکستان نے 29 ممالک کے ساتھ مل کر عالمی اتحاد WAICO قائم کر لیا

      فوڈ ڈیلیوری کا نیا بادشاہ کون؟ اوبر اور ڈیلیوری ہیرو کا 99 ممالک میں راج!

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    یوٹیوب ڈاکٹرز اور صحت کی گمراہ کن معلومات ایک خاموش وبا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر: سہیل احمد رانا

    ڈیجیٹل دور میں جہاں معلومات تک رسائی آسان ہوئی ہے، وہیں صحت سے متعلق غلط معلومات ایک سنگین عالمی مسئلہ بن کر ابھر رہی ہیں، اور پاکستان اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر خود ساختہ “ماہرین” اور بعض اوقات مستند ڈاکٹرز بھی بغیر مناسب حوالہ جات کے ایسی معلومات فراہم کر رہے ہیں جو نہ صرف سائنسی بنیادوں سے محروم ہوتی ہیں بلکہ براہِ راست عوامی صحت کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔ مسئلہ صرف معلومات کی فراہمی کا نہیں بلکہ “وائرل ہونے” کی دوڑ کا ہے، جہاں سادہ، سنسنی خیز اور فوری نتائج دینے والے دعوے سائنسی پیچیدگیوں پر سبقت لے جاتے ہیں۔

    اس رجحان کا سب سے خطرناک پہلو “ثبوت بمقابلہ مقبولیت” (Evidence vs Virality) کا تصادم ہے۔ مستند طبی تحقیق برسوں پر محیط ہوتی ہے، جس میں کلینیکل ٹرائلز، پیئر ریویو اور بین الاقوامی گائیڈ لائنز شامل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، سوشل میڈیا پر چند منٹ کی ویڈیو میں پیچیدہ بیماریوں کے “آسان علاج” پیش کیے جاتے ہیں، جو حقیقت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، اس قسم کی گمراہ کن معلومات کو “انفوڈیمک” (Infodemic) کہا جاتا ہے، جو کسی بھی وبا کے دوران بیماری کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے کیونکہ لوگ درست طبی رہنمائی کی بجائے غیر مستند ذرائع پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔

    پاکستان میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، ڈاکٹر مریض تناسب کم ہے، اور عوام کی بڑی تعداد طبی معلومات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں جب کوئی “یوٹیوب ڈاکٹر” بغیر تشخیص کے ادویات تجویز کرتا ہے یا گھریلو ٹوٹکوں کو سائنسی علاج کے متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے، تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں غلط علاج، بیماری کی شدت میں اضافہ، اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیاں۔ طبی پیشہ ور افراد کی اخلاقی ذمہ داری کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے ڈاکٹروں کو ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ آگاہی پھیلا سکتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ محض فالوورز بڑھانے یا ویوز حاصل کرنے کے لیے ادھوری یا غیر مصدقہ معلومات فراہم کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ بددیانتی ہے بلکہ طبی اخلاقیات (Medical Ethics) کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ ایک مستند ڈاکٹر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر بیان کو شواہد، گائیڈ لائنز اور تحقیق کی بنیاد پر پیش کرے، نہ کہ ذاتی تجربات یا غیر سائنسی دعووں پر۔

    مزید برآں، اس رجحان نے مریضوں کے رویے میں بھی واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ اب مریض ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے خود تشخیص(Self-diagnosis) کر چکے ہوتے ہیں اور بعض اوقات ڈاکٹر کے مشورے کو چیلنج بھی کرتے ہیں۔ یہ نہ صرف علاج کے عمل کو پیچیدہ بناتا ہے بلکہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کرتا ہے۔ نتیجتاً، علاج میں تاخیر، غلط ادویات کا استعمال، اور بیماری کے بگڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومتی ریگولیشن میں نہیں بلکہ ایک کثیر الجہتی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا پر طبی مواد کے لیے واضح گائیڈ لائنز متعارف کرانی چاہئیں۔ دوم، مستند ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ خود ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فعال ہو کر سائنسی اور قابلِ اعتبار معلومات فراہم کریں تاکہ غلط معلومات کا توڑ کیا جا سکے۔ سوم، عوامی سطح پر “ہیلتھ لٹریسی” کو فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ لوگ درست اور غلط معلومات میں فرق کر سکیں۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معلومات کی زیادتی ہمیشہ علم میں اضافے کا باعث نہیں بنتی خاص طور پر جب وہ معلومات غیر مصدقہ ہوں۔ یوٹیوب ڈاکٹرز کا یہ بڑھتا ہوا رجحان درحقیقت ایک خاموش وبا ہے، جو اگر بروقت کنٹرول نہ کی گئی تو صحت عامہ کے نظام پر اس کے اثرات کسی بھی متعدی بیماری سے کم نہیں ہوں گے۔

    Related Posts

    چین میں لینڈ سلائیڈنگ ،  8 افراد ہلاک، درجنوں شہری لاپتہ

    اسرائیلی ظلم و بربریت کی انتہا،غزہ میں جنازہ پر حملہ، 7 افراد ہلاک، 22 زخمی

    سانحہ زیارت ، کامیاب مذاکرات امن  کی جانب  اہم اور مثبت پیشرفت  ہے، گورنر بلوچستان 

    مقبول خبریں

    چین میں لینڈ سلائیڈنگ ،  8 افراد ہلاک، درجنوں شہری لاپتہ

    اسرائیلی ظلم و بربریت کی انتہا،غزہ میں جنازہ پر حملہ، 7 افراد ہلاک، 22 زخمی

    سانحہ زیارت ، کامیاب مذاکرات امن  کی جانب  اہم اور مثبت پیشرفت  ہے، گورنر بلوچستان 

    مشرقِ وسطیٰ میں آگ و خون : امریکا ایران براہِ راست جنگ ساتویں روز میں داخل،کویت اور اردن میں امریکی فوجی اڈے میزائلوں کا ہدف

    ’آپریشن ہارڈ بال‘: ایف بی آئی کی بین الاقوامی جرائم پیشہ گروپ کے خلاف بڑی کامیابی، بھارتی نژاد گینگسٹر لاس اینجلس سے گرفتار

    بلاگ

    نواب ذوالفقار خان کی قیادت سے بلوچستان میں امن کی بحالی ممکن!

    ’’امریکا ایران جنگ کا نیا مرحلہ‘‘ میاں حبیب کا کالم

    بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی شر پسند عناصرملوث اورمتحرک

    آخر مچھر مجھے ہی زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟اس کے پیچھے چھپی دلچسپ سائنس

    "تاریخ کا پہلا اور آخری جنازہ… جس میں شریک ہونے کے لیے انگریز سرکار نے ‘ٹیکس’ لگا دیا تھا!”

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.