تحریر: حکیم خالد محمود بیگ

پاکستان میں جب بھی قومی مسائل کا ذکر ہوتا ہے تو ہم معیشت، سیاست، مہنگائی اور بے روزگاری پر طویل بحث کرتے ہیں، مگر جس مسئلے سے ان تمام بحرانوں کا حل جڑا ہوا ہے، یعنی تعلیم، وہ ہمیشہ پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا نظامِ تعلیم مسلسل زوال کا شکار ہے اور تعلیمی ادارے تدریس کے مراکز کم اور تعطیلات کے اڈے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔اگر پنجاب میں یکم جنوری سے 31 اگست تک تعلیمی دنوں کا جائزہ لیا جائے توصورتحال نہایت تشویشناک نظر آتی ہے۔ 8 ماہ کے مجموعی 243 دنوں میں تقریباً 173 دن مختلف چھٹیوں، ویک اینڈز، موسمی تعطیلات اور اچانک سرکاری اعلانات کی نذر ہوگئے۔ یوں ہمارے بچے صرف دو ماہ دس دن ہی سکول جاسکے یا جا سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسی طرح قوموں کا مستقبل تعمیر کیا جاتا ہے؟جنوری میں موسمِ سرما کی طویل تعطیلات کے باعث بچےصرف 9 دن سکول گئے۔ فروری میں یومِ کشمیر، بسنت اور ہفتہ وار تعطیلات نے تعلیمی سلسلہ محدود کردیامارچ میں مختلف وجوہات اور عید کی تعطیلات نے سکولوں کے دروازے بند رکھے۔ اپریل میں ہفتے میں تین چھٹیاں دے کر تعلیمی نظام کو مزید کمزور کیا گیا، جبکہ مئی سے اگست تک گرمیوں کی طویل چھٹیوں نے تعلیمی سرگرمیوں کو تقریباً معطل کردیا۔دوسری جانب والدین مہنگا نصاب خریدتے ہیں، بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں، رکشوں اور ویگنوں کے کرائے دیتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں معیاری تعلیم نہیں بلکہ “چھٹیاں ہی چھٹیاں” ملتی ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کے بچوں کا ہوتا ہے، کیونکہ امیر طبقہ تو ٹیوشن، آن لائن کلاسز اور نجی سہولیات کے ذریعے تعلیمی خلا پورا کرلیتا ہے۔اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالکوں پر نظر ڈالیں تو وہاں تعلیم کو محض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے،جاپان میں سالانہ دو سو سے زائد تدریسی دن ہوتے ہیں اور وقت کی پابندی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ساوتھ کوریا نے تعلیم کو اپنی معاشی ترقی کی بنیاد بنایا اور آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔فن لینڈ میں کم وقت میں معیاری اور مؤثر تعلیم دی جاتی ہے جبکہ سنگاپور نے جدید تعلیمی اصلاحات کے ذریعے پوری دنیا میں مثال قائم کی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسئلے کا آسان حل سکول بند کرنا سمجھ لیا گیا ہے۔ کبھی موسم، کبھی احتجاج، کبھی سیکیورٹی خدشات اور کبھی انتظامی مسائل کے نام پر تعلیمی اداروں کو بند کردیا جاتا ہے۔ یوں طلبہ کی ذہنی استعداد، تعلیمی تسلسل اور مستقبل بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارتوں کی تقسیم کے وقت تجربات رکھنے والوں کو منتخب کرنے کے لیے باقاعدہ طور اس شعبہ میں تجربہ و مہارت رکھنے والوں کو صف اول میں لایا جائے خصوصاً نظام تعلیم کو،اورتعلیم کو واقعی قومی ترجیح بنایا جائے۔ غیر ضروری تعطیلات ختم کی جائیں، سالانہ تعلیمی کیلنڈر پر سختی سے عمل کیا جائے، جدید ٹیکنالوجی اور آن لائن تدریس کو فروغ دیا جائے، اساتذہ کی تربیت بہتر بنائی جائے اور نصاب کو معیاری و عملی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ قومیں جلسوں، نعروں اور وقتی اعلانات سے نہیں بلکہ سکولوں اور کتابوں سے ترقی کرتی ہیں، اساتذہ اکرام کی ڈیوٹیاں انتخابات یا دیگر سرگرمیوں کی بھینٹ چڑھانے کے بجاے انکے تعلیمی معیار کو اپ گریڈ کرنے کے لیے آن لائن سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ ترقی یافتہ نظام تعلیم اور اساتذہ کے تدریسی عمل سے نفع حاصل کرسکیں ،اگر آج بھی ہم نے تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی، کیونکہ بند سکول دراصل بند مستقبل کی علامت ہوتے ہیں۔
