وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز ملک بھر میں نافذ کفایت شعاری مہم میں 13 جون تک توسیع کر دی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان پر بھی بدستور مرتب ہو رہے ہیں۔
یہ اقدامات ابتدائی طور پر 9 مارچ کو نافذ کیے گئے تھے اور اب کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 13 جون تک مؤثر رہیں گے۔
یہ توسیع 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی تیل منڈی میں پیدا ہونے والی بے چینی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں کی گئی ہے۔
کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے ایندھن کے تحفظ اور اضافی کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کی سفارشات پر غور کرتے ہوئے ان اقدامات کی مدت میں فوری طور پر توسیع کی منظوری دی ہے۔
اہم پابندیوں کے تحت سرکاری افسران کی سرکاری گاڑیوں کے لیے فیول الاؤنس میں 50 فیصد کمی برقرار رہے گی، تاہم ایمبولینسز، پبلک بسوں اور دیگر آپریشنل گاڑیوں کو اس پابندی سے استثنا حاصل ہوگا۔
اس کے علاوہ حکومت اپنی 60 فیصد گاڑیوں کو غیر فعال رکھے گی جبکہ وزرا اور سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر پابندی بھی برقرار رہے گی، سوائے اُن معاملات کے جو قومی مفاد کے لیے ناگزیر سمجھے جائیں۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ اضافی کفایت شعاری اور ایندھن بچاؤ اقدامات مقررہ مدت تک نافذ العمل رہیں گے، جبکہ جن اقدامات کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، وہ اگلے حکم تک جاری رہیں گے۔
اس کفایت شعاری پروگرام کے تحت بیشتر سرکاری دفاتر کے لیے ہفتہ وار اوقات کار کو کم کر کے چار دن کر دیا گیا تھا، یعنی دفاتر پیر سے جمعرات تک کھلتے ہیں۔
تاہم بینکنگ، ضروری خدمات، زراعت اور صنعتی شعبے اس تبدیلی سے مستثنیٰ ہیں۔
ان اقدامات کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کی گئی تھی، جبکہ سرکاری اداروں اور حکومتی نگرانی میں کام کرنے والے اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کی گئی۔ اسی طرح حکومتی اخراجات میں 20 فیصد کمی اور گاڑیوں، فرنیچر، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر غیر ضروری اشیا کی خریداری پر پابندی عائد کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت بھی دی تھی۔
30 اپریل کو وزیراعظم نے موٹر سائیکل سواروں، پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے لیے ایندھن سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کی بھی منظوری دی تھی۔ یہ سبسڈیز بائیک سواروں، کسانوں اور ٹرانسپورٹرز کو عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے دی گئی تھیں۔

