لاہور :لاہور سمیت پنجاب بھر کے خریداروں اور تاجر برادری کے لیے بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ حکومتِ پنجاب عید الاضحیٰ کے موقع پر معاشی سرگرمیوں کو مہمیز دینے کے لیے چاند رات تک اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کی اہم تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو خریداری میں سہولت فراہم کرنا اور تاجروں کو سال کی سب سے بڑی سیل سے فائدہ اٹھانے کا موقع دینا ہے۔
تاجروں کا مطالبہ: "8 بجے نہیں، 24 گھنٹے اجازت دیں”
ذرائع کے مطابق لاہور کی بڑی مارکیٹوں، ہول سیل بازاروں، چین اسٹورز اور گراسری اسٹورز کے نمائندوں نے حکومت سے ہنگامی رابطہ کیا تھا۔ تاجر تنظیموں کا موقف ہے کہ:
عید کے ایام سال بھر کی تجارت کا محور ہوتے ہیں۔
رات 8 بجے دکانیں بند کرنے سے خریداروں کا رش بے قابو ہو جاتا ہے اور کاروبار شدید متاثر ہوتا ہے۔
لاہور کی روایتی چہل پہل کے مطابق مارکیٹیں صبح 4 سے 5 بجے تک کھلی رہنی چاہئیں تاکہ عوام گرمی سے بچ کر رات کے وقت سکون سے خریداری کر سکیں۔
عوامی اور تجارتی دباؤ کے پیشِ نظر حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے خصوصی ایس او پیز (SOPs) کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تجویز دی گئی ہے کہ چاند رات تک دکانوں اور شاپنگ مالز کو دیر تک کھولنے کی اجازت دی جائے، تاہم اس دوران ایس او پیز کی پابندی اور ہجوم کے انتظام کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس تجویز کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایس او پیز کا مسودہ تیار ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس ہوگا، جس میں سیکیورٹی اور دیگرمعاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو لاہور کی رونقیں ایک بار پھر چاند رات تک بحال ہو جائیں گی، جس سے نہ صرف معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ لاکھوں دیہاڑی دار طبقے کے لیے بھی روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
عید الاضحیٰ پر شہریوں کی موجیں: چاند رات تک اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے کی بڑی تجویز، حتمی فیصلہ مریم نواز کریں گی

