تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مارشل لا ایک ایسا باب ہے جس نے ریاستی ڈھانچے، جمہوری ارتقا اور ادارہ جاتی توازن پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ 1958ء، 1969ء، 1977ء اور 1999ء کے ادوار محض تاریخ نہیں بلکہ ایک مسلسل یاد دہانی ہیں کہ جب سیاسی نظام کمزور پڑتا ہے تو غیر آئینی قوتوں کے لیے راستے ہموار ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج کا پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ کی طرف بڑھ رہا ہے، یا حالات بنیادی طور پر مختلف ہو چکے ہیں؟
موجودہ تناظر میں ایک اہم تبدیلی ریاست اور معاشرے دونوں کی ساخت میں نظر آتی ہے۔ عدلیہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ خودمختار اور متحرک ہے، میڈیا—تمام تر دباؤ کے باوجود—مکمل خاموش نہیں، اور سوشل میڈیا نے معلومات کے بہاؤ کو اس حد تک تیز کر دیا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کو چھپانا یا اس کے اثرات کو محدود رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ 2007ء کی وکلا تحریک نے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس میں آئین شکنی کے خلاف مزاحمت ایک اجتماعی شعور کا حصہ بن گئی۔ یہی عوامل آج کسی بھی کھلے مارشل لا کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام، عالمی مالیاتی اداروں اور مختلف جغرافیائی و اقتصادی شراکت داریوں پر انحصار کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مارشل لا نہ صرف سفارتی تنہائی کو جنم دے گا بلکہ پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت کو مزید غیر یقینی کی طرف دھکیل دے گا۔ بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں کی فراہمی اور تجارتی مراعات سب متاثر ہو سکتی ہیں—اور یہ قیمت کسی بھی ریاست کے لیے آسان نہیں ہوتی۔
اس کے باوجود، داخلی سطح پر سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی تناؤ اور گورننس کی کمزوری ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب سیاسی قوتیں مکالمے کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دیں، پارلیمنٹ مؤثر قانون سازی سے محروم ہو جائے اور اہم فیصلے غیر منتخب فورمز پر منتقل ہوتے نظر آئیں تو ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے بعض مبصرین “ہائبرڈ نظام” یا “کنٹرولڈ جمہوریت” کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں آئین بظاہر موجود رہتا ہے مگر اس کی روح متاثر ہونے لگتی ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ موجودہ عسکری و ریاستی قیادت کے بیانات اور عملی رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ براہِ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے پسِ منظر میں رہ کر اثرانداز ہونا زیادہ قابلِ عمل سمجھا جا رہا ہے۔ یہ حکمتِ عملی ماضی کے تجربات، داخلی ردعمل اور عالمی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنائی گئی محسوس ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک “کلاسیکل مارشل لا” کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، تاہم اسے مکمل طور پر خارج از امکان قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
یہاں ذمہ داری کا ایک بڑا حصہ سیاسی قیادت پر عائد ہوتا ہے۔ جب سیاست اصولوں کے بجائے وقتی مفادات کے گرد گھومنے لگے، جب انتخابی عمل پر مسلسل سوالات اٹھتے رہیں اور جب عوامی مسائل پسِ پشت چلے جائیں تو نظام اپنی ساکھ کھونے لگتا ہے۔ ایسی صورتحال میں “مارشل لا کا خدشہ” دراصل ایک علامتی انتباہ ہوتا ہے—ایک اشارہ کہ ریاستی توازن بگڑ رہا ہے۔
میرے نزدیک پاکستان اس وقت کسی فوری مارشل لا کے دہانے پر نہیں بلکہ ایک نازک “ادارہ جاتی توازن” کے مرحلے میں ہے۔ اصل خطرہ ٹینکوں کی پیش قدمی نہیں بلکہ جمہوری اداروں کی بتدریج کمزوری، سیاسی عدم برداشت اور معاشی بے یقینی ہے۔ اگر یہ عوامل برقرار رہے تو نظام کی شکل تو جمہوری رہے گی مگر اس کی روح کمزور پڑتی جائے گی۔
آگے کا راستہ واضح مگر مشکل ہے: سیاسی قوتوں کے درمیان کم از کم قومی ایجنڈے پر اتفاق، پارلیمنٹ کی حقیقی بالادستی، عدلیہ کی آئینی حدود میں فعالیت، اور ایک شفاف و قابلِ عمل معاشی حکمتِ عملی۔ جب تک یہ عناصر مضبوط نہیں ہوں گے، مارشل لا کا سوال وقتاً فوقتاً سر اٹھاتا رہے گا—خواہ وہ حقیقت ہو یا محض ایک خدشہ۔
بالآخر، پاکستان کی پائیدار ترقی اور استحکام کا انحصار آئینی بالادستی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر ہے۔ مارشل لا کوئی حل نہیں بلکہ مسائل کو مؤخر کرنے کا ایک طریقہ رہا ہے۔ ایک مضبوط، جوابدہ اور بالغ جمہوریت ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو بحرانوں کے دائرے سے نکال سکتا ہے۔


