حریر:راجہ محمد عارف
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

دوسری جانب، حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مکمل آزادی خطرناک ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ غلط معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بھی یہ بحث جاری ہے کہ کہاں آزادیٔ اظہار ختم ہوتی ہے اور قومی سلامتی کا دائرہ شروع ہوتا ہے۔ یورپی یونین اور دیگر ممالک بھی ڈیجیٹل ریگولیشن کے قوانین متعارف کرا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔
تاہم، پاکستان کے تناظر میں ایک بنیادی فرق موجود ہے: یہاں ڈیجیٹل معیشت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ فری لانسرز، ڈیجیٹل کریئیٹرز اور اسٹارٹ اپس اس شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر انٹرنیٹ کی بندش، پلیٹ فارمز کی پابندی یا سخت نگرانی کا سلسلہ جاری رہا تو یہ نہ صرف اظہارِ رائے بلکہ معاشی ترقی کو بھی متاثر کرے گا۔ پاکستان فری لانسرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے، اور کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال اس ترقی کو سست کر سکتی ہے۔ مزید برآں، “ڈیجیٹل کنٹرول” کا ایک اہم پہلو اعتماد کا فقدان ہے۔ جب صارفین یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی آن لائن سرگرمیاں مسلسل نگرانی میں ہیں، تو وہ نہ صرف محتاط ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات خود سنسرشپ (self-censorship) کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ رجحان ایک صحت مند جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، جہاں آزادانہ بحث اور تنقید کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
میری رائے میں پاکستان کو اس حساس توازن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مکمل آزادی بھی مسائل پیدا کر سکتی ہے اور مکمل کنٹرول بھی۔ ایک ایسا نظام درکار ہے جو شفاف، جوابدہ اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو۔ ڈیجیٹل قوانین کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے اور ان کا استعمال سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل تعلیم، میڈیا لٹریسی اور عوامی آگاہی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ شہری خود بھی ذمہ دارانہ آن لائن رویہ اختیار کریں۔
“ڈیجیٹل پاکستان” کا خواب صرف ٹیکنالوجی کے فروغ سے پورا نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے آزادی، اعتماد اور شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ اگر ریاست کنٹرول کو ترجیح دے گی تو ڈیجیٹل ترقی محدود ہو جائے گی، اور اگر توازن قائم رکھا گیا تو پاکستان واقعی ایک جدید، کھلا اور ترقی یافتہ ڈیجیٹل معاشرہ بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پابندیاں: قومی سلامتی یا اظہارِ رائے پر دباؤ؟ڈیجیٹل ترقی کے خواب کو کن خطرات کا سامنا؟

