چکوال(بیورو چیف جلیل نقوی سے)
ضلع چکوال کے علاقے کھوکھر بالا حدود تھانہ کلرکہار میں قتل کی ایک سنسنی خیز اور منظم سازش بے نقاب ہوئی ہے، جہاں پرانی دشمنی نے ایک اور خونی کھیل کی بنیاد رکھ دی تھی، تاہم پولیس کی بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے سانحے کو ٹال دیا۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم عقیل سلطان نے اپنے ماموں اللہ نور کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے خطرناک منصوبہ تیار کیا۔ سات سے آٹھ ماہ قبل اس نے اپنے ساتھی ارسلان (سکنہ ڈنڈوت) کے ساتھ بیٹھک میں گفتگو کے دوران کھوکھر بالا کے رہائشیوں رضوان عرف جانو اور شیراز کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ پولیس ذرائع کے مطابق عقیل سلطان نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ارسلان اور یاسر کو شامل کیا اور انہیں قتل کے بدلے بھاری رقم بطور سپاری دینے کی پیشکش کی۔ تین لاکھ روپے میں ڈیل طے پائی، جس میں سے 25 ہزار روپے بطور ایڈوانس ادا کیے گئے جبکہ واردات کے لیے پسٹل بھی فراہم کیا گیا۔ڈی ایف سی کی رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ملزمان کسی بھی وقت اس خونی منصوبے کو عملی شکل دے سکتے ہیں، جس پر تھانہ کلر کہار پولیس فوری حرکت میں آئی اور مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ایک مجرمانہ سازش تیار کی تھی، جس کا مقصد کھلے عام قتل کی واردات کو انجام دینا تھا، تاہم بروقت کارروائی سے ایک بڑا المیہ ٹل گیا۔ یہ مقدمہ ضلع چکوال میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس قرار دیا جا رہا ہے، جس میں باقاعدہ سپاری دے کر قتل کی سازش کو قبل از وقت بے نقاب کیا گیا۔


