Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

      چین کی الیکٹرک گاڑی نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا؛ رفتار 503 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی

      ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    بین الاقوامی منافقت اور دوہرے معیار عالمی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:سہیل احمد رانا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    عالمی سیاست میں مفادات اور اصولوں کے درمیان کشمکش کوئی نئی حقیقت نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس تضاد نے جس شدت کے ساتھ خود کو ظاہر کیا ہے، اس نے بین الاقوامی نظام کی ساکھ کو سنجیدہ سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ یوکرائن اور غزہ کے تناظر میں عالمی ردِعمل کا تقابلی جائزہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اور ادارے ایک ہی نوعیت کے واقعات پر مختلف پیمانوں کے تحت ردِعمل دیتے ہیں، جو نہ صرف اخلاقی ابہام کو جنم دیتا ہے بلکہ عالمی انصاف کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔ یوکرائن میں شہری اہداف، خصوصاً ہسپتالوں یا رہائشی علاقوں پر حملوں کو فوری طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ یورپی قیادت اور مغربی میڈیا اس پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہیں، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی، شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی کے باوجود عالمی ردِعمل نہ صرف نسبتاً مدھم نظر آتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے دفاعی اقدامات کے تناظر میں جواز بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہی تضاد عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ جنگی تنازعات کا وسیع تجربہ رکھنے والی رپورٹر جینین ڈی جیووانی نے بھی اس دوہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری انسانی جانوں کے تحفظ کے معاملے میں یکساں اصولوں پر کاربند نہیں۔ ان کے مطابق، ایک ہی نوعیت کے حملوں کو مختلف سیاسی اور جغرافیائی سیاق و سباق میں مختلف انداز سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو نہ صرف متاثرہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ عالمی قوانین کہ غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ یہ صورتحال محض بیانیے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اداروں کی مؤثریت پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں، جہاں سیاسی مفادات اکثر اصولی مؤقف پر غالب آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً، عالمی نظام میں انصاف کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے اور متاثرہ خطوں میں بے اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میری رائے میں، یہ دوہرا معیار عالمی نظام کے لیے طویل المدتی خطرہ ہے۔ اگر بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کو طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع رکھا جائے گا تو نہ صرف ان قوانین کی افادیت ختم ہو جائے گی بلکہ عالمی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انصاف کی بنیاد ہمیشہ غیرجانبداری اور یکسانیت پر ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی وابستگیوں پر۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ عالمی برادری ایک واضح اور اصولی مؤقف اپنائے، جہاں ہر خطے، ہر قوم اور ہر فرد کے لیے انسانی حقوق یکساں اہمیت رکھتے ہوں۔ جنگی جرائم کی تعریف اور ان پر ردِعمل کسی بھی قسم کے سیاسی یا جغرافیائی امتیاز سے بالاتر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر، یہ تضاد نہ صرف موجودہ بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنائے گا بلکہ مستقبل میں عالمی امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچائے گا۔کہ تاریخ ہمیشہ اصولی مؤقف اور سچائی کو یاد رکھتی ہے، نہ کہ وقتی مفادات پر مبنی فیصلوں کو۔اگر عالمی نظام کو اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو اسے دوہرے معیار سے نکل کر حقیقی انصاف کی جانب قدم بڑھانا ہوگا۔

    Related Posts

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

     پانی کے نظام پر حملوں میں تین گنا اضافہ، انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق،  رانا بشارت علی خان

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مقبول خبریں

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مٹیاری: شگر مل روڈ پر ٹریفک حادثہ، کمسن بچہ جاں بحق، 3 افراد شدید زخمی

    شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

    چار بوگیوں میں آتشزدگی،مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی

    بلاگ

    دیوالی: روشنی، خوشیوں، محبت اور امید کا عظیم تہوار

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.