تحریر:سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
عالمی سیاست میں مفادات اور اصولوں کے درمیان کشمکش کوئی نئی حقیقت نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں اس تضاد نے جس شدت کے ساتھ خود کو ظاہر کیا ہے، اس نے بین الاقوامی نظام کی ساکھ کو سنجیدہ سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ یوکرائن اور غزہ کے تناظر میں عالمی ردِعمل کا تقابلی جائزہ اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں اور ادارے ایک ہی نوعیت کے واقعات پر مختلف پیمانوں کے تحت ردِعمل دیتے ہیں، جو نہ صرف اخلاقی ابہام کو جنم دیتا ہے بلکہ عالمی انصاف کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔ یوکرائن میں شہری اہداف، خصوصاً ہسپتالوں یا رہائشی علاقوں پر حملوں کو فوری طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ یورپی قیادت اور مغربی میڈیا اس پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہیں، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی، شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی کے باوجود عالمی ردِعمل نہ صرف نسبتاً مدھم نظر آتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے دفاعی اقدامات کے تناظر میں جواز بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہی تضاد عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔ جنگی تنازعات کا وسیع تجربہ رکھنے والی رپورٹر جینین ڈی جیووانی نے بھی اس دوہرے معیار کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری انسانی جانوں کے تحفظ کے معاملے میں یکساں اصولوں پر کاربند نہیں۔ ان کے مطابق، ایک ہی نوعیت کے حملوں کو مختلف سیاسی اور جغرافیائی سیاق و سباق میں مختلف انداز سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو نہ صرف متاثرہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ عالمی قوانین کہ غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ یہ صورتحال محض بیانیے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اداروں کی مؤثریت پر بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ، بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں، جہاں سیاسی مفادات اکثر اصولی مؤقف پر غالب آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً، عالمی نظام میں انصاف کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے اور متاثرہ خطوں میں بے اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میری رائے میں، یہ دوہرا معیار عالمی نظام کے لیے طویل المدتی خطرہ ہے۔ اگر بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کو طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع رکھا جائے گا تو نہ صرف ان قوانین کی افادیت ختم ہو جائے گی بلکہ عالمی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انصاف کی بنیاد ہمیشہ غیرجانبداری اور یکسانیت پر ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی وابستگیوں پر۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ عالمی برادری ایک واضح اور اصولی مؤقف اپنائے، جہاں ہر خطے، ہر قوم اور ہر فرد کے لیے انسانی حقوق یکساں اہمیت رکھتے ہوں۔ جنگی جرائم کی تعریف اور ان پر ردِعمل کسی بھی قسم کے سیاسی یا جغرافیائی امتیاز سے بالاتر ہونا چاہیے۔ بصورت دیگر، یہ تضاد نہ صرف موجودہ بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنائے گا بلکہ مستقبل میں عالمی امن کے امکانات کو بھی نقصان پہنچائے گا۔کہ تاریخ ہمیشہ اصولی مؤقف اور سچائی کو یاد رکھتی ہے، نہ کہ وقتی مفادات پر مبنی فیصلوں کو۔اگر عالمی نظام کو اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو اسے دوہرے معیار سے نکل کر حقیقی انصاف کی جانب قدم بڑھانا ہوگا۔