Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      سستا ایندھن، جدید ٹیکنالوجی: چیری ماسٹر کا پاکستان میں 13 نئے ماڈلز اور الیکٹرک گاڑی ‘کیو کیو’ لانے کا اعلان

      روبوٹ بنا مسافر طیارے کی ایک گھنٹہ تاخیر کا باعث

      میڈیا کی دنیا کا ایک عہد تمام: سی این این کے بانی اور عظیم مخیر ٹیڈ ٹرنر 87 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

      6000 کلومیٹررینج، 25 ماخ سپیڈ، ترکئیے نے اپنا پہلا بین البراعظمی میزائل متعارف کرادیا

      واٹس ایپ کا مخصوص آئی فون ڈیوائسز کی سپورٹ ختم کرنیکا فیصلہ

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جس میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے فلیٹس کے خریداروں کو ملکیتی حقوق سے محروم قرار دیا گیا، بظاہر ایک خالص قانونی مقدمہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کئی گہرے سوالات جنم لیتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ سی ڈی اے اور ڈیویلپر کے درمیان لیز قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے خریداروں کو کسی قسم کا خودمختار ملکیتی حق حاصل نہیں ہو سکتا، البتہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے ڈیویلپر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

    یہ فیصلہ بظاہر قانونی اصولوں کے مطابق ہے، کیونکہ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے اور مالی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنایا۔ ریکارڈ کے مطابق ڈیویلپر مقررہ ادائیگیاں اور بینک گارنٹیز فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں لیز منسوخ ہوئی اور اس کے ساتھ ہی تمام ثانوی حقوق بھی ختم ہو گئے۔
    تاہم، ایک سنجیدہ تجزیہ اس فیصلے کو محض قانونی دائرے تک محدود نہیں رکھتا۔ اسلام آباد کا ریڈ زون، جہاں یہ عمارت واقع ہے، پاکستان کا سب سے حساس سیکیورٹی علاقہ تصور کیا جاتا ہے—یہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، ایوانِ صدر اور اہم سفارتی تنصیبات موجود ہیں۔ ایسے میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی موجودگی ہمیشہ سے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج رہی ہے۔
    یہاں ایک اہم زاویہ ابھرتا ہے: حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حساس سفارتی رابطے اور ممکنہ مذاکرات نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے ہائی پروفائل ڈپلومیٹک انٹریکشنز کے دوران، کسی بھی ایسی عمارت کا وجود جو ریڈ زون پر براہِ راست نظر رکھتی ہو، عالمی معیار کی سیکیورٹی پروٹوکولز کے مطابق خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، یہ سوال اٹھانا غیر منطقی نہیں کہ کیا اس فیصلے کے پیچھے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تشویش بھی کارفرما تھی؟
    مزید برآں، بین الاقوامی سطح پر یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ حساس سرکاری علاقوں کے قریب بلند عمارتوں کی تعمیر یا تو محدود کی جاتی ہے یا بعد ازاں انہیں ختم کیا جاتا ہے۔ واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو جیسے دارالحکومتوں میں بھی ایسے اقدامات کی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیکیورٹی چیلنجز زیادہ پیچیدہ ہیں، اس نوعیت کے فیصلے محض عدالتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک بھی ہو سکتے ہیں۔
    یہاں ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو اکثر اہم سیکیورٹی معاملات میں بین الاقوامی مشاورت حاصل رہتی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ ریڈ زون کے قریب اس نوعیت کی عمارتوں کے حوالے سے عالمی سیکیورٹی معیار یا تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں ایران سے متعلق کشیدگی عالمی سطح پر حساس موضوع بنی ہوئی ہے۔
    دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کیس کے فوراً بعد حکومتی سطح پر مختلف پہلوؤں کے جائزے کی بات بھی سامنے آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف عدالتی نہیں بلکہ انتظامی اور ممکنہ طور پر سیکیورٹی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔
    میری رائے میں، اس فیصلے کو صرف ایک قانونی تنازع سمجھنا سادہ لوحی ہوگی۔ یہ بیک وقت تین جہتوں پر مبنی ہے:
    اوّل، قانون کی بالادستی اور معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی؛
    دوئم، ریاست کی رِٹ کا قیام؛
    اور سوئم، دارالحکومت کی سیکیورٹی اسٹریٹیجی۔
    اگر آنے والے دنوں میں اس عمارت کو جزوی یا مکمل طور پر گرانے کی سمت پیش رفت ہوتی ہے، تو یہ اس بات کی مزید تصدیق ہوگی کہ اصل مسئلہ صرف لیز کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اور سیکیورٹی حیثیت بھی ہے۔
    آخر میں، یہ مقدمہ پاکستان کے شہری ڈھانچے، سرمایہ کاری کے تحفظ اور سیکیورٹی پالیسی کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فیصلہ درست تھا یا غلط—اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں ایسے منصوبوں کی منظوری دیتے وقت قومی سلامتی کو اولین ترجیح دے گا؟

    Related Posts

    بھارتی بحریہ کی ہمت نہیں ہوئی کہ ہمارے پانیوں کا رُخ کرے، رئیر ایڈمرل شفاعت علی خان

    اب ہمارا اسکور ” آٹھ صفر“ ہے ، ائیروائس مارشل طارق غازی

    وزیر آباد کا ‘ہٹلر’ سوشل میڈیا پر چھا گیا: پنجاب حکومت کے اشتہار میں نوجوان کا انوکھا نام بحث کا مرکز

    مقبول خبریں

    وزیر آباد کا ‘ہٹلر’ سوشل میڈیا پر چھا گیا: پنجاب حکومت کے اشتہار میں نوجوان کا انوکھا نام بحث کا مرکز

    پنجاب پولیس کے انسپکٹر کا امریکی سفیر کو ‘شاہکار’ تحفہ، واشنگٹن تک دھوم مچ گئی

    ”جب جیلر کو قیدی سے پیار ہوگیا“سلاخوں کے پیچھے انوکھی پریم کہانی: 

    سستا ایندھن، جدید ٹیکنالوجی: چیری ماسٹر کا پاکستان میں 13 نئے ماڈلز اور الیکٹرک گاڑی ‘کیو کیو’ لانے کا اعلان

    کرپٹ اہلکاروں کے لیے رعایت نہیں، اب سیدھا جیل: مریم نواز کا ‘پیرا’ فورس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا حکم

    بلاگ

    ہنٹا وائرس اور ایران۔امریکا جنگ: پاکستان کے لیے ایک خاموش مگر سنگین خطرہ

    کیا واقعی ایران نے 16 امریکی فوجی تنصیبات کو مفلوج کر دیا؟ — اندرونی کہانی

    کیا پاکستان میں مارشل لا قریب ہے؟ — ایک محتاط مگر واضح تجزیہ

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    بین الاقوامی منافقت اور دوہرے معیار عالمی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.