Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور پانچ سالہ پابندی ختم

      ’’ اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس ’’ٹرمپ نے نئے ’’ایئر فورس ون‘‘ کی رونمائی کردی،

      1000 سال پرانا دیو ہیکل ‘میجر اوک’ درخت ہمیشہ کے لیے خاموش؛ شیئر ووڈ فاریسٹ کا قدیم ترین ورثہ ختم!

      ٹائیٹن آبدوز حادثے کی تین سال بعد تحقیقاتی رپورٹ جاری

      آئی فون صارفین کے لئے بری خبر، ایپل نے بڑا اعلان کردیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جس میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے فلیٹس کے خریداروں کو ملکیتی حقوق سے محروم قرار دیا گیا، بظاہر ایک خالص قانونی مقدمہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کئی گہرے سوالات جنم لیتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ سی ڈی اے اور ڈیویلپر کے درمیان لیز قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے خریداروں کو کسی قسم کا خودمختار ملکیتی حق حاصل نہیں ہو سکتا، البتہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے ڈیویلپر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

    یہ فیصلہ بظاہر قانونی اصولوں کے مطابق ہے، کیونکہ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے اور مالی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنایا۔ ریکارڈ کے مطابق ڈیویلپر مقررہ ادائیگیاں اور بینک گارنٹیز فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں لیز منسوخ ہوئی اور اس کے ساتھ ہی تمام ثانوی حقوق بھی ختم ہو گئے۔
    تاہم، ایک سنجیدہ تجزیہ اس فیصلے کو محض قانونی دائرے تک محدود نہیں رکھتا۔ اسلام آباد کا ریڈ زون، جہاں یہ عمارت واقع ہے، پاکستان کا سب سے حساس سیکیورٹی علاقہ تصور کیا جاتا ہے—یہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، ایوانِ صدر اور اہم سفارتی تنصیبات موجود ہیں۔ ایسے میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی موجودگی ہمیشہ سے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج رہی ہے۔
    یہاں ایک اہم زاویہ ابھرتا ہے: حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حساس سفارتی رابطے اور ممکنہ مذاکرات نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے ہائی پروفائل ڈپلومیٹک انٹریکشنز کے دوران، کسی بھی ایسی عمارت کا وجود جو ریڈ زون پر براہِ راست نظر رکھتی ہو، عالمی معیار کی سیکیورٹی پروٹوکولز کے مطابق خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، یہ سوال اٹھانا غیر منطقی نہیں کہ کیا اس فیصلے کے پیچھے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تشویش بھی کارفرما تھی؟
    مزید برآں، بین الاقوامی سطح پر یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ حساس سرکاری علاقوں کے قریب بلند عمارتوں کی تعمیر یا تو محدود کی جاتی ہے یا بعد ازاں انہیں ختم کیا جاتا ہے۔ واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو جیسے دارالحکومتوں میں بھی ایسے اقدامات کی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیکیورٹی چیلنجز زیادہ پیچیدہ ہیں، اس نوعیت کے فیصلے محض عدالتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک بھی ہو سکتے ہیں۔
    یہاں ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو اکثر اہم سیکیورٹی معاملات میں بین الاقوامی مشاورت حاصل رہتی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ ریڈ زون کے قریب اس نوعیت کی عمارتوں کے حوالے سے عالمی سیکیورٹی معیار یا تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں ایران سے متعلق کشیدگی عالمی سطح پر حساس موضوع بنی ہوئی ہے۔
    دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کیس کے فوراً بعد حکومتی سطح پر مختلف پہلوؤں کے جائزے کی بات بھی سامنے آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف عدالتی نہیں بلکہ انتظامی اور ممکنہ طور پر سیکیورٹی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔
    میری رائے میں، اس فیصلے کو صرف ایک قانونی تنازع سمجھنا سادہ لوحی ہوگی۔ یہ بیک وقت تین جہتوں پر مبنی ہے:
    اوّل، قانون کی بالادستی اور معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی؛
    دوئم، ریاست کی رِٹ کا قیام؛
    اور سوئم، دارالحکومت کی سیکیورٹی اسٹریٹیجی۔
    اگر آنے والے دنوں میں اس عمارت کو جزوی یا مکمل طور پر گرانے کی سمت پیش رفت ہوتی ہے، تو یہ اس بات کی مزید تصدیق ہوگی کہ اصل مسئلہ صرف لیز کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اور سیکیورٹی حیثیت بھی ہے۔
    آخر میں، یہ مقدمہ پاکستان کے شہری ڈھانچے، سرمایہ کاری کے تحفظ اور سیکیورٹی پالیسی کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فیصلہ درست تھا یا غلط—اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں ایسے منصوبوں کی منظوری دیتے وقت قومی سلامتی کو اولین ترجیح دے گا؟

    Related Posts

    لندن، دو مسافر ٹرینوں  میں ٹکر ڈرائیور ہلاک نو افراد کی حالت تشویشناک

    جیکب آباد میں بھائی نے بھائی کی جان لے لی

    ٹریکٹر ٹرالی اور موٹر سائیکل میں خوفناک تصادم، ڈاکٹر شدید زخمی

    مقبول خبریں

    لندن، دو مسافر ٹرینوں  میں ٹکر ڈرائیور ہلاک نو افراد کی حالت تشویشناک

    لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 51 ہلاک، پاکستانی کتنے؟

    امریکا-ایران کشیدگی،آبنائے ہرمز پھر بند ؛ سوئٹزرلینڈ میں اہم مذاکرات آج، پاکستان ثالثی کے کردار پر قائم، محسن نقوی کی عباس عراقچی سے اہم ملاقات

    کمبھ میلے کی ‘رودرکش گرل’ کی زندگی کو خطرہ؛ کیرالا ہائی کورٹ کا پولیس کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم

    استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی اور پانچ سالہ پابندی ختم

    بلاگ

    جنگ کسی نے لڑی، امن کسی نے کرایا، مگر سب سے زیادہ کمائی چین کرے گا؟

    چودہ نکاتی معاہدہ: امن کی دستاویز یا طاقت کی نئی تقسیم؟امریکہ اور ایران معاہدے کا جائزہ

    300 ارب ڈالر کا سوال: سرمایہ کاری، سفارت کاری یا ایران کے لیے نئی شروعات؟

    ”آسٹریلین پاسپورٹ کی برکت !پوری سی سی ڈی نے ماتھا ٹیکا‘‘ انصاف ، عزت صرف غیر ملکی پاسپورٹ والوں کے لیے ہے: فواد چوہدری

    ہانیہ کا خون ہمارے نظام کی خاموشی اور دادا کی خواہش ؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.