Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو—قانونی فیصلہ یا سیکیورٹی اسٹریٹیجی؟

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    اسلام آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ، جس میں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے فلیٹس کے خریداروں کو ملکیتی حقوق سے محروم قرار دیا گیا، بظاہر ایک خالص قانونی مقدمہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں کئی گہرے سوالات جنم لیتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ سی ڈی اے اور ڈیویلپر کے درمیان لیز قانونی طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے خریداروں کو کسی قسم کا خودمختار ملکیتی حق حاصل نہیں ہو سکتا، البتہ وہ اپنی سرمایہ کاری کی واپسی کے لیے ڈیویلپر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔

    یہ فیصلہ بظاہر قانونی اصولوں کے مطابق ہے، کیونکہ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے اور مالی ذمہ داریوں کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنایا۔ ریکارڈ کے مطابق ڈیویلپر مقررہ ادائیگیاں اور بینک گارنٹیز فراہم کرنے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں لیز منسوخ ہوئی اور اس کے ساتھ ہی تمام ثانوی حقوق بھی ختم ہو گئے۔
    تاہم، ایک سنجیدہ تجزیہ اس فیصلے کو محض قانونی دائرے تک محدود نہیں رکھتا۔ اسلام آباد کا ریڈ زون، جہاں یہ عمارت واقع ہے، پاکستان کا سب سے حساس سیکیورٹی علاقہ تصور کیا جاتا ہے—یہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، ایوانِ صدر اور اہم سفارتی تنصیبات موجود ہیں۔ ایسے میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی موجودگی ہمیشہ سے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک چیلنج رہی ہے۔
    یہاں ایک اہم زاویہ ابھرتا ہے: حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حساس سفارتی رابطے اور ممکنہ مذاکرات نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے ہائی پروفائل ڈپلومیٹک انٹریکشنز کے دوران، کسی بھی ایسی عمارت کا وجود جو ریڈ زون پر براہِ راست نظر رکھتی ہو، عالمی معیار کی سیکیورٹی پروٹوکولز کے مطابق خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، یہ سوال اٹھانا غیر منطقی نہیں کہ کیا اس فیصلے کے پیچھے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تشویش بھی کارفرما تھی؟
    مزید برآں، بین الاقوامی سطح پر یہ ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ حساس سرکاری علاقوں کے قریب بلند عمارتوں کی تعمیر یا تو محدود کی جاتی ہے یا بعد ازاں انہیں ختم کیا جاتا ہے۔ واشنگٹن، بیجنگ اور ماسکو جیسے دارالحکومتوں میں بھی ایسے اقدامات کی مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیکیورٹی چیلنجز زیادہ پیچیدہ ہیں، اس نوعیت کے فیصلے محض عدالتی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک بھی ہو سکتے ہیں۔
    یہاں ایک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو اکثر اہم سیکیورٹی معاملات میں بین الاقوامی مشاورت حاصل رہتی ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں، لیکن یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ ریڈ زون کے قریب اس نوعیت کی عمارتوں کے حوالے سے عالمی سیکیورٹی معیار یا تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں ایران سے متعلق کشیدگی عالمی سطح پر حساس موضوع بنی ہوئی ہے۔
    دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کیس کے فوراً بعد حکومتی سطح پر مختلف پہلوؤں کے جائزے کی بات بھی سامنے آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف عدالتی نہیں بلکہ انتظامی اور ممکنہ طور پر سیکیورٹی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔
    میری رائے میں، اس فیصلے کو صرف ایک قانونی تنازع سمجھنا سادہ لوحی ہوگی۔ یہ بیک وقت تین جہتوں پر مبنی ہے:
    اوّل، قانون کی بالادستی اور معاہداتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی؛
    دوئم، ریاست کی رِٹ کا قیام؛
    اور سوئم، دارالحکومت کی سیکیورٹی اسٹریٹیجی۔
    اگر آنے والے دنوں میں اس عمارت کو جزوی یا مکمل طور پر گرانے کی سمت پیش رفت ہوتی ہے، تو یہ اس بات کی مزید تصدیق ہوگی کہ اصل مسئلہ صرف لیز کی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی اور سیکیورٹی حیثیت بھی ہے۔
    آخر میں، یہ مقدمہ پاکستان کے شہری ڈھانچے، سرمایہ کاری کے تحفظ اور سیکیورٹی پالیسی کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ فیصلہ درست تھا یا غلط—اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مستقبل میں ایسے منصوبوں کی منظوری دیتے وقت قومی سلامتی کو اولین ترجیح دے گا؟

    Related Posts

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.