کراچی/ لاہور: پاکستان کی شاہراہوں پر طاقت اور رعب کی علامت سمجھی جانے والی ٹویوٹا فارچیونر کی قیمت میں چند ہی ماہ کے دوران دوسری بار ہونے والی نمایاں کمی نے آٹو مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انڈس موٹرز کمپنی (آئی ایم سی) کی جانب سے اپنی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر دی جانے والی اس ’پروموشنل پیشکش‘ کو ماہرین مارکیٹ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور معاشی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
انڈس موٹرز کی جانب سے اپریل 2026 میں پیٹرول ویریئنٹس کی قیمتوں میں قریباً 25 لاکھ روپے تک کی بڑی کمی کا اعلان کیا گیا ہے:
فارچیونر جی (پیٹرول): دسمبر 2025 میں قیمت ایک کروڑ 49 لاکھ روپے تھی جو اب کم ہو کر قریباً ایک کروڑ 24 لاکھ روپے رہ گئی ہے۔
فارچیونر وی (پیٹرول): اس ماڈل کی قیمت میں بھی اسی نوعیت کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
حیران کن طور پر ڈیزل ویریئنٹس کی قیمتیں برقرار ہیں، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ طلب صرف پیٹرول انجن والی گاڑیوں میں کم ہوئی ہے۔
2026 میں پیٹرول 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکا ہے، جس کی وجہ سے فارچیونر جیسے 2.7 لیٹر انجن والی گاڑی کا فل ٹینک بھروانے پر 30 ہزار روپے سے زائد خرچ آتا ہے۔
پیٹرول ویریئنٹس کی فروخت سست ہونے کے باعث ڈیلرز کے پاس غیر فروخت شدہ گاڑیوں کا ذخیرہ (Stock) بڑھ رہا ہے، جسے نکالنے کے لیے قیمت کم کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
خریدار اب بھاری بھرکم پیٹرول گاڑیوں کے بجائے ہائبرڈ یا ڈیزل گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
اس کمی کا سب سے زیادہ اثر استعمال شدہ (Used) گاڑیوں کی مارکیٹ پر پڑا ہے۔ پاکستان میں گاڑیوں کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ تصور دم توڑ رہا ہے:
جن افراد نے یہ گاڑی ایک کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدی تھی، انہیں اب لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے کیونکہ نئی گاڑی اب سستی دستیاب ہے۔
گاڑی کو بطور سرمایہ کاری دیکھنے کا رجحان اب تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
کارڈیلرز کے مطابق، اگر کوئی صارف ذاتی استعمال کے لیے فارچیونر خریدنا چاہتا ہے اور اس کی ڈرائیو کم ہے، تو موجودہ قیمت ایک سنہری موقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر آپ اسے منافع کمانے یا سرمایہ کاری کے لیے خرید رہے ہیں، تو یہ فیصلہ اب پہلے جیسا محفوظ نہیں رہا۔
کیا آپ اس قیمت پر فارچیونر خریدنا چاہیں گے یا آپ کے خیال میں پیٹرول کی قیمتیں اسے اب بھی ایک ’مہنگی سواری‘ بنائے رکھیں گی؟
سنہری موقع ،ٹویوٹا نے فارچیونر کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کمی کردی

