دبئی/اسلام آباد: نامور فلم ساز اینیمیری جاشر (Annemarie Jacir) کی ہدایت کاری میں بننے والی تاریخی فلم ‘فلسطین 36’ نے یکم مئی 2026 کو نیٹ فلکس مڈل ایسٹ پر اپنی ڈیجیٹل ریلیز کے بعد سے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ برطانوی استعمار کے خلاف 1936 سے 1939 تک جاری رہنے والی عرب بغاوت پر مبنی یہ فلم خاص طور پر پاکستان اور دیگر اردو بولنے والے خطوں میں تیزی سے ٹرینڈ کر رہی ہے۔
نیٹ فلکس کی جانب سے علاقائی مواد کی توسیع کے تحت اس فلم کو اردو آڈیو اور سب ٹائٹلز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس اقدام نے پاکستانی ناظرین اور دنیا بھر میں مقیم اردو سمجھنے والے طبقے میں اس فلم کی کشش کو دوچند کر دیا ہے۔
س منظر فلم ‘فلسطین 36’ برطانوی مینڈیٹ کے دوران فلسطینیوں کے اتحاد کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اسے اکثر "پہلی انتفاضہ” یا تاریخ کی طویل ترین ہڑتال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مختلف دیہاتوں اور شہروں کے فلسطینیوں نے متحد ہو کر استعماری طاقتوں کا مقابلہ کیا۔
یادرہے یہ فلم 2026 کے اکیڈمی ایوارڈز کے لیے فلسطین کی جانب سے باضابطہ طور پر نامزد کی گئی ہے۔جبکہ اسے عرب ایوارڈز کے لئے’بہترین فلم’، ‘بہترین ہدایت کار’ اور ‘بہترین اسکرین پلے’ سمیت چھ مختلف کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا ہے۔
فلم میں فلسطینی سنیما کے مایہ ناز اداکار ہیام عباس اور صالح بکری نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
فلم کی تیاری کے دوران فلسطین میں شدید رکاوٹوں اور نامساعد حالات کا سامنا رہا، تاہم اس کے باوجود فلم کا ایک بڑا حصہ وہیں عکسبند کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فلم ‘نو ادر لینڈ’ (No Other Land) جیسی معاصر دستاویزی فلموں کی طرح موجودہ تنازع کو سمجھنے کے لیے جذباتی اور تاریخی تناظر فراہم کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ناظرین اسے ایک "بروقت شاہکار” قرار دے رہے ہیں جو فلسطین کی آزادی کی تحریک کے جڑوں کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
تاریخی فلم ‘فلسطین 36’ کی نیٹ فلکس پر دھوم، پاکستانی ناظرین میں مقبولیت

