نیویارک/اسلام آباد: پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے سابق چیئرمین طارق ملک نے بین الاقوامی سطح پر ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ امریکی کلاؤڈ بیسڈ آئیڈینٹی پلیٹ فارم اوکٹا (Okta) نے انہیں دنیا کے 25 بہترین آئیڈنٹٹی لیڈرز کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
اوکٹا کی رپورٹ "2026 دی آئیڈنٹٹی 25” کے مطابق، یہ اعزاز ان مایا ناز شخصیات کو دیا گیا ہے جنہوں نے سافٹ ویئر سازی اور اسٹریٹجک نفاذ کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا میں لین دین کو محفوظ بنانے کے لیے غیر معمولی کام کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ طارق ملک جیسے ماہرین کا کام عصرِ حاضر کے بڑے چیلنجز، جیسے ڈیپ فیکس (Deepfakes) اور خود مختار اے آئی (AI) اداروں کی تصدیق سے نمٹنے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
25 سالہ طویل جدوجہد کا اعتراف
رپورٹ میں طارق ملک کی ڈھائی دہائیوں پر محیط خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح پر حکومتوں اور کثیر الجہتی اداروں کو ڈیجیٹل شناخت اور سول رجسٹریشن کے نظام بنانے میں مشاورت فراہم کی۔ان کا کام سماجی تحفظ، معاشی شمولیت اور بہتر سروس ڈیلیوری کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔ اس موقع پر ان کی تصویر دیگر شرکا کے ہمراہ نیویارک کے معروف ٹائمز اسکوئر پر نشرکی گئی ۔
وطن کی مٹی گواہ رھنا!
وطن کی مٹی عظیم ہے تو
عظیم تر ہم بنا رہے ہیں۔پاکستان زندہ باد۔ 🇵🇰 #PakistanZindabad #Pakistan pic.twitter.com/T2CzY5plUf
— Tariq Malik ™ (@ReplyTariq) May 4, 2026
طارق ملک نے نادرا میں اپنے دورِ سربراہی میںدنیا کے سب سے بڑے بایومیٹرک رجسٹریشن پراجیکٹس میں سے ایک کی قیادت کی۔
145 ملین سے زائد شہریوں کا ڈیجیٹل اندراج کیا گیا۔شناختی نظام کو خواتین کو بااختیار بنانے، غربت کے خاتمے اور بدعنوانی کو روکنے جیسے سماجی پروگراموں کے لیے استعمال کیا گیا۔اندرونی طور پر بے گھر افراد (IDPs) کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل نظام کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔
طارق ملک کے مطابق، اب دنیا پاس ورڈز کے روایتی نظام سے نکل کر پاس کیز (Passkeys) کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ ایسے ‘ویریفائی ایبل کریڈینشلز’ کے حامی ہیں جو مکمل ڈیٹا شیئر کیے بغیر صرف ضروری معلومات کی تصدیق فراہم کریں، جس سے شہریوں کی پرائیویسی مزید محفوظ ہوگی۔
یاد رہے کہ طارق ملک 2023 میں نادرا کے چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے، جو نادرا میں ان کا دوسرا کامیاب دور تھا۔ ان کا پہلا دورِ صدارت 2013 میں مکمل ہوا تھا۔ عالمی سطح پر اس اعتراف کو پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

