کویت سٹی: خلیجی خطے میں دہائیوں سے قائم امریکی فوجی غلبہ اب تاریخ کا حصہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ کویت میں موجود امریکی فوج کا سب سے بڑا مرکز ’کیمپ بیوہرنگ‘، جو کبھی ایک متحرک امریکی شہر کی مانند تھا، اب ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آ کر تقریباً تباہ اور خالی ہو چکا ہے۔
امریکی میڈیا ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے اپنی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 8 ممالک میں پھیلے ہوئے کم از کم 16 امریکی فوجی ٹھکانوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان حملوں کی شدت کا اندازہ ان اہم نقصانات سے لگایا جا سکتا ہے:
بوئنگ ای-3 سینٹری: ایران نے 500 ملین ڈالر مالیت کے نگرانی کرنے والے نایاب طیاروں کو تباہ کر دیا۔
ریڈار اور ریڈومز: ایئر ڈیفنس کے لیے ناگزیر مہنگے ریڈار سسٹم اور سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے ڈھانچے (ریڈومز) کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔
العدید ایئر بیس: قطر میں موجود امریکی فضائیہ کے مرکزی کمانڈ سینٹر کو دو بار نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی اس غیر معمولی درستگی (Precision) کے پیچھے چین کا TEE-01B سیٹلائٹ ہے، جو ایران نے 2024 میں خفیہ طور پر حاصل کیا تھا۔ اس ہائی ریزولوشن امیجری نے ایران کو وہ صلاحیت فراہم کر دی ہے جو پہلے صرف امریکا کے پاس تھی، جس سے وہ اپنے اہداف کو ملی میٹر کی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا رہا ہے۔
اس جنگ نے امریکا کے دیرینہ اتحادیوں، بالخصوص سعودی عرب کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اتحاد اب واحد آپشن نہیں رہا۔ ماہرین کے مطابق، امریکی اڈوں کا عدم تحفظ خلیجی ممالک کے لیے سکیورٹی کے نئے متبادلات کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
اگرچہ پنٹاگون کا دعویٰ ہے کہ امریکی فوج اب بھی مکمل طور پر فعال ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ حملوں کے خوف سے زیادہ تر امریکی فوجیوں کو اڈوں سے ہٹا کر اب محفوظ مقامات جیسے ہوٹلوں اور اپارٹمنٹس میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خلیج میں امریکی بالادستی کا خاتمہ؟ ایرانی میزائلوں نے 16 فوجی اڈے کھنڈر بنا دیے، سی این این

