چترال/ اسلام آباد: پاکستان کے نامور ماہرِ لسانیات اور سافٹ ویئر انجینئر رحمت عزیز خان چترالی نے ٹیکنالوجی اور ادب کے سنگم پر ایک ایسی تاریخ رقم کر دی ہے جس نے پاکستان کی درجنوں مادری زبانوں کو دم توڑنے سے بچا لیا ہے۔ وہ پاکستان کے پہلے کی بورڈ ڈویلپر ہیں جنہوں نے کھوار، اردو، پشتو، سندھی، کالاشہ اور سرائیکی سمیت 40 سے زائد مقامی زبانوں کے لیے لسانی کی بورڈز تیار کیے ہیں۔
رحمت عزیز خان چترالی کی خدمات محض سافٹ ویئر تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے پاکستان کی لسانی برادریوں کو ڈیجیٹل دنیا میں ایک نئی پہچان دی ہے۔40 زبانوں کا کی بورڈ: انہوں نے ایک ایسا کثیر لسانی کی بورڈ ایجاد کیا جو بیک وقت 40 سے زائد پاکستانی زبانوں میں ٹائپنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔عالمی شناخت: ان کی ”فورٹی لینگویج کی بورڈ تھیوری“ پر انہیں جرمنی سے انٹرنیشنل انوویشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔قومی اعزاز: پاکستان میں انہیں ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان گولڈ میڈل سمیت متعدد قومی اعزازات مل چکے ہیں۔
ڈیجیٹل پاکستان کا سفیر
رحمت عزیز خان نے نہ صرف کی بورڈز بنائے بلکہ کھوار، سرائیکی، پنجابی اور دیگر زبانوں کے ویکیپیڈیا پر بطور ایڈمنسٹریٹر خدمات انجام دے کر ان زبانوں کو عالمی سطح پر رسائی فراہم کی۔ ان کی کوششوں سے وہ زبانیں جو صرف پہاڑوں اور وادیوں تک محدود تھیں، اب انٹرنیٹ پر باقاعدہ لکھی اور پڑھی جا رہی ہیں۔
وہ ایک بہترین شاعر، محقق اور مترجم بھی ہیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے افکار اور بچوں کے ادب پر گراں قدر کام کیا ہے۔ ان کا سب سے بڑا مقصد مادری زبان میں تعلیم کی فراہمی ہے، تاکہ نئی نسل اپنی جڑوں سے جڑی رہے۔
رحمت عزیز خان چترالی کا کام صرف ایجاد نہیں بلکہ ایک "ثقافتی بچاؤ” (Cultural Rescue) کی مہم ہے، جو پاکستان کے لسانی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنا رہا ہے۔

