ٹھٹھہ :یونین کونسل کیٹی بندر میں سمندر میں اچانک طغیانی آنے سے حفاظتی بند کئی مقامات پر ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں سمندر کا کھارا پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔
تیز لہروں اور بند میں پڑنے والے شگافوں کے باعث گاؤں علی بخش جت، گاؤں ہاشم جت اور گاؤں عثمان دبلو شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد سینکڑوں خاندان بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے، جبکہ قیمتی سامان اور مویشیوں کے نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
متاثرہ مکین بابو جت اور دیگر افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا “ہم نے کئی بار متعلقہ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ سمندری پانی سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے بند انتہائی کمزور ہو چکے ہیں، مگر کسی نے ہماری بات نہیں سنی۔ آج انتظامیہ کی غفلت کے باعث ہمارے گھر تباہ ہو گئے اور ہم دربدر ہو گئے ہیں۔”
متاثرہ دیہاتیوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ، وزیرِ آبپاشی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حفاظتی بند کے شگاف بند کیے جائیں متاثرہ افراد کو امداد فراہم کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے
بند کی مضبوطی کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔ صوبائی وزیر حاجی علی حسن زرداری نے نوٹس لیتے ہو فوری ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔

