واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری دو ماہ پرانی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات تو جاری ہیں، لیکن ان مذاکرات کے طریقہ کار پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی اتحادیوں کے درمیان خلیج اتنی گہری ہو گئی ہے کہ واشنگٹن نے نیٹو (NATO) اتحادی جرمنی سے اپنے 5,000 فوجی واپس بلانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
اس بڑے فیصلے کی فوری وجہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کا وہ چونکا دینے والا بیان بنا جس میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں امریکا کو "ذلت” کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چانسلر مرز نے واضح طور پر کہا کہ انہیں واشنگٹن کی اس جنگ سے نکلنے کی کوئی واضح حکمت عملی (Exit Strategy) نظر نہیں آ رہی۔
پینٹاگون کے ایک سینئر اہلکار نے اس بیان کو "نامناسب اور غیر مددگار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ان منفی تبصروں پر اپنا جائز ردعمل دے رہے ہیں۔
یادرہے اس وقت جرمنی میں 35,000 امریکی فوجی موجود ہیں، جو یورپ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں سے 5 ہزار فوجیوں کا انخلا اگلے 6 سے 12 ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اٹلی اور اسپین سے بھی اپنی فوجیں واپس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔
اسپین کی جانب سے اپنی فضائی حدود اور اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر ٹرمپ نے مکمل تجارتی پابندیاں (Trade Embargo) لگانے کی دھمکی دی ہے۔
صدر ٹرمپ نیٹو اتحادیوں سے اس بات پر بھی نالاں ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے کے لیے اپنی بحری افواج نہیں بھیج رہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم ترین راستہ ہے اور جنگ کے باعث تقریباً بند ہو چکا ہے۔ اس بندش کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی میں تاریخی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔
جرمن حکام اس اچانک فیصلے پر حیرت زدہ ہیں، ان کا موقف ہے کہ وہ اڈوں کے استعمال اور پروازوں کی اجازت دے کر امریکا کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے اس رویے کے بعد اب یورپی ممالک اپنا دفاعی بجٹ خود بڑھانے اور امریکا پر انحصار کم کرنے کی طرف قدم بڑھائیں گے، کیونکہ واشنگٹن اب ایک ناقابلِ اعتبار ساتھی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ایران جنگ پر اختلافات شدت اختیار کر گئے، صدر ٹرمپ کا جرمنی سے 5 ہزار امریکی فوجی واپس بلانے کا ہنگامی اعلان!

