پیرس :صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) کی جاری کردہ 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں آزادیِ صحافت گزشتہ 25 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اس سال دنیا کے 180 ممالک میں سے نصف سے زیادہ (52.2%) ممالک میں صحافتی حالات کو "انتہائی سنگین” یا "مشکل” قرار دیا گیا ہے۔’رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ نے حال ہی میں ’ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2026‘ جاری کیا ہے، جو کہ اس انڈیکس کا 25واں ایڈیشن ہے۔
ناروے مسلسل دسویں سال بھی پہلے نمبر پر براجمان ہے۔بہترین ممالک کی فہرست میں ناروے کے بعد ہالینڈ اور اسٹونیا بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
180 ممالک کی فہرست میں پاکستان153ویں نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش 3 درجے تنزلی کے بعد 152ویں نمبر پر آ گیا ہے۔نیپال جنوبی ایشیا میں سب سے بہتر 87ویں نمبر پر ہےسری لنکا کا نمبر 134واں ہے۔بدترین ممالک کی فہرست میں اریٹیریا آخری (180ویں) نمبر پر ہے، جبکہ شمالی کوریا (179ویں) اور چین (178ویں) نمبر پر موجود ہیں
اس انڈیکس میں شامل کل 180 ممالک میں بھارت157 ویں نمبر پر ہے۔ سال 2025 کے مقابلے میں ہندوستان 6 درجے نیچے گرا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 151 ویں مقام پر تھا۔ ۔
مالدیپ 108 ویں، سری لنکا 134 ویں، بھوٹان 150 ویں، بنگلہ دیش 152 ویں، میانمار 166 ویں، افغانستان 175 ویں اور چین 178 ویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
سیاسی دباؤ: حکومتوں کی جانب سے میڈیا پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھایا جا رہا ہے۔قوانین کا غلط استعمال: دنیا کے 110 سے زائد ممالک میں صحافت کو جرم بنانے کے لیے قومی سلامتی اور جھوٹی خبروں (Disinformation) کے مبہم قوانین کا بے جا استعمال ہو رہا ہے۔صحافیوں کا عدم تحفظ: صحافیوں کے خلاف جسمانی تشدد، دھمکیوں اور انتقامی کارروائیوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔

