تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
دنیا اس وقت ایک غیر معمولی مقدمے کی گواہ بن رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے دو بڑے نام، ایلون مسک اور سیم آلٹمین، عدالت میں آمنے سامنے ہیں۔ یہ محض ایک قانونی تنازع نہیں بلکہ ایک نظریاتی تصادم ہے—ایک طرف وہ دعویٰ کہ مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے فائدے کے لیے آزاد اور شفاف ہونا چاہیے، اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے بے پناہ سرمایہ، کارپوریٹ شراکت داری اور منافع کا ماڈل ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مقدمے کا مرکزی سوال یہی ہے کہ آیا OpenAI نے اپنے ابتدائی فلاحی مشن سے انحراف کیا اور اسے ایک منافع بخش ادارے میں تبدیل کر دیا، یا یہ تبدیلی وقت اور ضرورت کا تقاضا تھی ۔
اگر اس تنازع کو محض دو شخصیات کی لڑائی سمجھا جائے تو یہ ایک بڑی غلطی ہوگی۔ حقیقت میں یہ معاملہ اس بنیادی سوال کو چیلنج کرتا ہے کہ کیا جدید ٹیکنالوجی کبھی واقعی غیر جانبدار رہ سکتی ہے؟ OpenAI کا قیام 2015 میں اس عزم کے ساتھ ہوا تھا کہ مصنوعی ذہانت کو کھلے انداز میں ترقی دی جائے گا اور اس کے فوائد پوری انسانیت تک پہنچائے جائیں گے، مگر وقت کے ساتھ اس ادارے نے ایک "لیمٹڈ پروفٹ” ماڈل اختیار کیا اور بڑی کارپوریٹ کمپنیوں، خصوصاً مائیکروسافٹ، کے ساتھ گہرا اشتراک قائم کیا۔ ناقدین کے نزدیک یہی وہ موڑ تھا جہاں نظریہ پسِ پشت چلا گیا اور سرمایہ آگے آ گیا، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ اربوں ڈالر کی لاگت کے بغیر اس سطح کی AI ممکن ہی نہیں تھی۔
میری رائے میں، اس مقدمے کا سب سے اہم پہلو یہ نہیں کہ کون صحیح ہے بلکہ یہ ہے کہ دونوں کسی نہ کسی حد تک درست بھی ہیں اور مفاد میں بھی گرفتار ہیں۔ ایلون مسک خود ایک متبادل AI کمپنی چلا رہے ہیں، اس لیے ان کی تنقید کو مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں کہا جا سکتا، جبکہ OpenAI کی قیادت بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتی کہ اس کی موجودہ ساخت میں شفافیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ یوں یہ تنازع ہمیں ایک تلخ حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں اخلاقیات اور منافع کا توازن قائم رکھنا انتہائی مشکل ہے، اور اکثر اوقات یہ توازن منافع کے حق میں جھک جاتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ معاملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ طاقت، معیشت اور علم کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ابھی تک اس میدان میں سنجیدہ حکمتِ عملی سے محروم ہے۔ ہماری جامعات تحقیق کے بجائے نصابی تعلیم تک محدود ہیں، پالیسی ساز ادارے AI کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر خاموش ہیں، اور نجی شعبہ زیادہ تر بیرونی ٹیکنالوجی کا صارف ہے نہ کہ تخلیق کار۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہم ایک نئی قسم کی ڈیجیٹل نوآبادیات کا شکار ہو جائیں گے جہاں ڈیٹا ہمارا ہوگا مگر کنٹرول دوسروں کے پاس۔
اس تنازع سے ایک اور اہم سبق یہ ملتا ہے کہ "اوپن” یا "فلاحی” کے نعرے ہمیشہ پائیدار نہیں ہوتے۔ جب ٹیکنالوجی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور اس میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو ادارے اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ عوامی مفاد کے نام پر شروع ہونے والے منصوبے وقت کے ساتھ مخصوص گروہوں کے فائدے تک محدود ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم AI کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیں جو شفافیت، احتساب اور عوامی مفاد کو یقینی بنائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ AI کی دوڑ اب صرف سائنسی ترقی کی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کی جنگ بن چکی ہے۔ امریکہ، چین اور یورپ اس میدان میں برتری حاصل کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک ابھی ابتدائی سطح پر بھی مکمل طور پر داخل نہیں ہو سکے۔ ایسے میں یہ سوچنا کہ ہم بغیر سرمایہ کاری، تحقیق اور پالیسی کے اس دوڑ میں شامل ہو سکیں گے، محض خوش فہمی ہوگی۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایلون مسک اور سیم آلٹمین کا مقدمہ دراصل ایک علامت ہے—ایک ایسے دور کی علامت جہاں نظریات اور منافع آمنے سامنے کھڑے ہیں، اور جہاں ٹیکنالوجی کا مستقبل چند طاقتور اداروں کے فیصلوں سے طے ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ آیا ہم اس تبدیلی کے محض تماشائی بنے رہیں گے یا اس میں اپنا کردار بھی ادا کریں گے۔ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو آنے والے وقت میں ہم صرف مصنوعی ذہانت کے صارف ہوں گے، اس کے معمار نہیں—اور یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔

