تحریر:حاجی فضل محمود انجم
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس ڈیوائس کو ہم اپنی سہولت کے لیے جیب میں رکھتے ہیں وہی ہماری پرائیویسی کی سب سے بڑی دشمن بن چکی ہے۔اب آپکی کوئی بھی ایسی چیز جسے آپ زمانے اور دنیا والوں کی نظروں سے پرے رکھنا چاہتے ہیں تو آپ اسے نہیں رکھ سکتے کیونکہ اس ڈیوائس نے ہر ایک چیز کو بالکل کھول کر اور ظاہر کرکے رکھ دیا ہے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا سمارٹ فون نہ صرف آپ کی باتیں سنتا ہے بلکہ آپ کی تصویریں اور دیگر ڈیٹا بھی اپنی مرضی سے استعمال کرتا ہے۔آپ ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔اس موبائل کے سامنے کچھ دیر کیلئے کسی موضوع پہ بات کریں اور پھر سوشل میڈیا کو کھولیں تو فیس بک پر آپکے موضوع سے متعلقہ پوسٹیں اور ویڈیوز شیئر ہونا شروع ہو جائیں گی۔کیوں۔؟ اسلئے کہ اس نے آپکی تمام باتوں کو سن لیا ہے اور اس پہ بات کو آگے بڑھا کر آپکو کچھ اور معلومات دینا چاہ رہا ہے۔گویا اب آپ کی تصاویر ویڈیوز اور فیملی ایونٹس کی تصاویر و ویڈیوز کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔حتی!کہ اب آپ کی موومنٹ اور آپ کی لوکیشن بھی پوشیدہ نہیں ہے۔
”ٹیکنالوجی بری نہیں ہوتی، لیکن اس کا بے جا استعمال ہماری انفرادی آزادی کو نگل رہا ہے۔”
یہ بھی سچ ہے کہ موبائل فون نے بے شمار فوائد دیے ہیں۔ ہمارے رابطے آسان ہوئے ہو گئے ہیں۔اسکے ذریعے معلومات فوری دستیاب ہوئیں ہیں۔ کاروبار بڑھے ہیں اور تعلیم و تعلم میں بہتر ہوئی ہے لیکن فوائد کے ساتھ خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ پرائیویسی کا خاتمہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ جب رازداری ختم ہو جائے تو انسان کی آزادی وقار اور تحفظ سب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
موبائل فون نے جہاں فاصلے مٹا دیے ہیں وہاں انسانوں کے درمیان موجود "حیا "اور "رازداری” کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے۔ ہم ایک ایسی شیشے کی بستی میں رہ رہے ہیں جہاں ہر کوئی دوسرے کو دیکھ سکتا ہے حتی! کہ اسکی حرکات و سکنات تک کو دیکھ سکتا ہے۔ گویا پرائیویسی کا مکمل خاتمہ شاید اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہم اس سہولت کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ فون کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کی کتاب ہر ایک کے لیے کھلی چھوڑ دیں۔؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے غلام بننے کے بجائے اس کے سمارٹ صارف بنیں، ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہماری سوچ بھی ہماری اپنی نہیں رہے گی۔اسلئے اگر ہم احتیاط نہ کریں تو موبائل فون ہمارا دوست نہیں بلکہ ہمارا جاسوس بن جائے گا۔ پرائیویسی انسانی حق ہے اور اسے بچانا ہماری ذمہ داری ۔

