تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب کی انتظامی و پولیس مشینری ایک ایسے فریم ورک کے زیرِ اثر کام کر رہی ہے جس کا مقصد بظاہر کارکردگی میں اضافہ تھا، مگر عملی سطح پر اس نے فیصلہ سازی کو محدود اور نتاو کمزور کر دیا ہے۔ کاغذی اہداف "کے پی آئی "اب محض پیمانہ نہیں رہے، بلکہ خود مقصد بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی نے ترجیحات کا رخ بدل دیا ہے۔ جرائم کے حقیقی تدارک کے بجائے نمبرز پورے کرنا اولین ہدف بن گیا ہے، جبکہ عوامی تحفظ کا بنیادی مقصد پس منظر میں چلا گیا ہے۔ انتظامی اصول یہ کہتے ہیں کہ جس چیز کی پیمائش کی جائے، اس میں بہتری آتی ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب پیمائش زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔ جب انڈیکیٹرز اور انڈیکس حقیقی پیچیدگیوں کو نظر انداز کریں تو وہ اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ ضلع کی سطح پر ایک ڈی پی او ہر واقعہ پر موجود نہیں ہو سکتا۔ اس کی اصل ذمہ داری مؤثر کمانڈ، ترجیحات کا تعین اور وسائل کا بروقت استعمال ہے۔ تاہم جب ہر فیصلہ اس اندیشے کے تحت ہو کہ ہدف پورا نہ ہوا تو درجہ بندی متاثر ہوگی، تو پیشہ ورانہ خودمختاری ختم ہو جاتی ہے اور نظام ردِعملی بن جاتا ہے، فعال نہیں۔ اس تناظر میں حکومت کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ پالیسی اور عمل درآمد کے درمیان واضح حد قائم کرے۔ پالیسی سازی ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ اس کا نفاذ اداروں کا دائرہ کار ہے۔ اگر اداروں کو واضح سمت، مناسب وسائل اور متوازن اختیارات فراہم کیے جائیں تو نتائج بہتر ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلسل مائیکرو مینجمنٹ چاہے وہ کے پی آئی کی صورت میں ہو یا روزمرہ امور میں مداخلت اداروں کی کارکردگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ بہتر حکمتِ عملی یہ ہے کہ اہداف طے کیے جائیں، وقت دیا جائے، اور پھر نتائج کی بنیاد پر شفاف احتساب کیا جائے۔ ایک بنیادی کمزوری کردار کی حدبندی کا فقدان ہے۔ پٹواری، تحصیلدار اور ایس ایچ او کے اپنے اپنے دائرہ کار ہیں، مگر جب یہ ذمہ داریاں بالائی افسران تک منتقل ہو جائیں تو نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ جوابدہی بھی غیر واضح ہو جاتی ہے۔ مؤثر گورننس اسی وقت ممکن ہے جب ہر سطح پر ذمہ داری اور اختیار واضح ہو اور کام اپنی اصل سطح پر انجام پائے۔ ادارہ جاتی سطح پر میرٹ اور تعیناتیوں کا مسئلہ بھی توجہ طلب ہے۔ پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیلڈ پوسٹنگز اور قابل افسران کو غیر فعال عہدوں پر رکھنا مورال کو متاثر کرتا ہے اور کارکردگی کو گراتا ہے۔ ایک پیشہ ور نظام میں تعیناتیاں کارکردگی، اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر ہونی چاہئیں تاکہ تسلسل اور اعتماد قائم رہے۔ وسائل کا عدم توازن بھی ایک نمایاں حقیقت ہے۔ ایک طرف سرکاری عمارتوں کی تعمیر و تہزئین و آرائش اور بہتری پر بھاری اخراجات، اور دوسری طرف انہی اداروں کے آپریشنل وسائل میں کمی یہ تضاد کارکردگی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ پولیس کے پاس گشت کے لیے مناسب ایندھن نہ ہو تو فوری ردِعمل ممکن نہیں رہتا۔ اس کے ساتھ بڑھتی مہنگائی، ٹیکس کا بوجھ اور بنیادی سہولیات کی کمی افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ کچے کے علاقوں میں وسائل کی فراہمی اہم ہے، مگر شہری علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
معاشی پالیسیوں کے اثرات بھی امن و امان سے جڑے ہوئے ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں پر غیر لچکدار پابندیاں معیشت کو سکیڑ دیتی ہیں، جس کے اثرات روزگار اور بالآخر جرائم کی شرح پر مرتب ہوتے ہیں۔ کمزور معیشت اور کمزور سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے حقائق ہیں، اس لیے پالیسی سازی میں معاشی اور سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
خصوصی یونٹس جیسے سی سی ڈی بعض حالات میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور پیچیدہ جرائم کے خلاف ہدفی کارروائیوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں، مگر یہ مستقل حل نہیں۔ دیرپا بہتری کے لیے تھانہ کلچر، تفتیشی نظام، پراسیکیوشن کے ساتھ روابط اور عدالتی معاونت میں ہم آہنگ اصلاحات ناگزیر ہیں۔گورننس کا معیار نمبروں سے نہیں بلکہ نتائج سے طے ہوتا ہے، اور نتائج کا اصل پیمانہ عوام کا اعتماد ہے۔ اگر حکومت اداروں کو عزت، وسائل اور واضح سمت فراہم کرے، اور اس کے بعد غیر جانبدار احتساب کو یقینی بنائے، تو یہی توازن پنجاب میں بہتر امن و امان اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے۔


