پام بیچ ، فلوریڈا:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی بھی خراب یا نامناسب معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے۔فلوریڈا کے علاقے ویسٹ پام بیچ میں میامی روانگی سے قبل ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کر دے۔‘
انہوں نے حالیہ فوجی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کا 85 فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ، جو خطے میں ایک وقت میں سب سے طاقتور سمجھی جاتی تھی، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور اس کے 159 جہاز اب سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ دباؤ ایران کی حکومت پر اثر ڈال رہا ہے،یہ سب ایران کے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی امن تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، مگر اسے تسلیم کرنے کے امکان پر شک کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی فوجی افسر نے اشارہ دیا ہے کہ ’لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا امکان‘ موجود ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا کہ ’جلد ہی ایران کی جانب سے بھجوائے گئے پلان کا جائزہ لینے والا ہوں، مگر میرا نہیں خیال کہ یہ قبول کیے جانے کے قابل ہے اور انہوں نے ابھی تک اس کی مناسب قیمت ادا نہیں کی جو انہوں نے 47 برس کے دوران انسانیت اور دنیا کے ساتھ کیا ہے۔‘
سنیچر کو فلوریڈ کے ریسٹ بیچ پر میامی کے لیے جہاز میں سوار ہونے سے قبل جب صدر ٹرمپ سے ایران کی جانب سے آنے والی تجویز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کے معاہدے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم ابھی حتمی عبارت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے ایران کو خبردار بھی کیا کہ اگر اس نے غلط رویہ اختیار کیا تو دوبارہ حملے شروع ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے سنیچر کو کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مسترد کی جانے والی تجویز کو مان لیا جائے تو آبنائے ہرمز کے راستے جہاز رانی کھل جائے گی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی ختم ہو جائے گی جبکہ جوہری پروگرام پر بات چیت بعد میں ہو سکتی ہے۔
اس سوال کہ ’ایران پر دوبارہ حملے شروع کیے جا سکتے ہیں؟‘ کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا میرا مطلب ہے کہ یہ میں کسی رپورٹر کو نہیں بتا سکتا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں لکھا کہ ’ایران نے گزشتہ 47 برسوں کے دوران انسانیت اور دنیا کے خلاف اپنے اقدامات کی ابھی تک اتنی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘
صحافیوں کے سوالات کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں معاہدے کے مجموعی ڈھانچے سے آگاہ کر دیا گیا ہے تاہم ابھی تفصیلی متن انھیں فراہم کیا جانا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں قبل از وقت ختم نہیں کرے گا، ان کے بقول وقت امریکا کے حق میں ہے اور ایران کے خوراک کے ذخائر تین ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک نیا نظام قائم ہو رہا ہے اور واشنگٹن یہ دیکھ رہا ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے، کیونکہ ان کے مطابق ایرانی قیادت کی پہلی اور دوسری صف اور تیسری صف کا نصف حصہ ختم کیا جا چکا ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی قیادت میں وضاحت کے فقدان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کوئی واضح فریق موجود نہیں ،جس سے مذاکرات کیے جا سکیں۔
انہوں نے اسلام آباد کے ذریعے پیش کیے گئے ایران کے حالیہ تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار بھی کیا۔فوجی آپشن سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کا سامنا کرے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
اسی تناظر میں ویب سائٹ ”ایکسيوس” (Axios) نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے اندازے کے مطابق ایران پر عائد غیر معمولی بحری محاصرہ اسے تقریباً 5 ارب ڈالر کی تیل آمدنی سے محروم کر چکا ہے۔
ایکسيوس کے مطابق اس وقت خلیج میں مجموعی طور پر 31 تیل بردار جہاز موجود ہیں، جن میں 5 کروڑ 30 لاکھ بیرل ایرانی تیل لدا ہوا ہے، ان کی مالیت کم از کم 4 ارب 80 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے نئی آئل ٹینکرز بھرنے میں مشکلات کے باعث پرانے جہازوں کو عارضی ذخیرہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

